1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بغداد کے شیعہ اکثریتی علاقوں میں داعش کے حملے، سو سے زائد ہلاکتیں

بغداد کے شیعہ اکثریتی آبادی والے دو مختلف علاقوں میں دہشت گرد تنظیم داعش کی طرف سے کیے گئے بم دھماکوں میں کم از کم 125 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ یہ حملے ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات کو دیر گئے کیے گئے۔

Irak Bagdad Anschlag in Karrada

الکرادہ میں کار بم حملے کے بعد کا منظر

بغداد سے موصولہ نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق ان دو بڑے بم دھماکوں میں سے بہت ہلاکت خیز دھماکا ایک کار بم حملہ تھا، جو شہر کے الکرادہ نامی علاقے میں کیا گیا، جو بغداد کے وسط میں ایک بہت مصروف کاروباری علاقہ ہے۔

اس حملے میں عراقی حکام کے مطابق کم از کم 125 افراد ہلاک اور 160 سے زائد زخمی ہوئے۔ عراقی پولیس اور مختلف ہسپتالوں کے ذرائع کے مطابق اس حملے میں زیادہ تر ان خاندانوں اور نوجوانوں کو نشانہ بنایا گیا، جن کا رمضان کے عین آخری دنوں میں عید کی خریداری کے لیے اس وقت بازاروں میں بہت ہجوم تھا۔

شام اور عراق کے کئی علاقوں پر قابض عسکریت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش نے اپنے ایک آن لائن بیان میں الکرادہ میں اس کار بم حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔ اس بیان میں اس گروہ نے، جو خود کو ایک سنی تنظیم قرار دیتا ہے اور اپنے دہشت گردانہ حملوں کے اپنے ہی طور پر اسلامی حوالے سے جائز ہونے کے ناقابل فہم دعوے بھی کرتا ہے، واضح طور پر کہا کہ الکرادہ میں یہ طاقت ور کار بم حملہ کرنے کا ’مقصد دانستہ طور پر شیعہ‘ مسلمانوں کو نشانہ بنانا تھا۔ نیوز ایجنسی اے پی نے لکھا ہے کہ اس بم حملے سے متعلق داعش کے اعترافی بیان کی غیر جانبدار ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

بغداد سے آمدہ دیگر رپورٹوں کے مطابق ان دونوں بم دھماکوں، خاص کر الکرادہ میں ہونے والے تباہ کن دھماکے کے بعد امدادی کارکن اور آگ بجھانے والے عملے کے افراد اتوار کی صبح طلوع آفتاب تک ابھی آگ بجھانے اور جلی ہوئی عمارتوں سے ہلاک شدگان کی لاشیں نکالنے میں مصروف تھے۔

عینی شاہدین کے بقول مرنے والوں میں بہت سے بچے بھی شامل ہیں اور دھماکے کے کئی گھنٹے بعد تک بھی ایمبولینسیں حملے کی جگہ سے زخمیوں اور ہلاک شدگان کو ہسپتالوں میں منتقل کر رہی تھیں۔ مقامی باشندوں کے مطابق الکرادہ کی ایک پرہجوم مارکیٹ میں اس دھماکے کے بعد قریب ہی واقع ملبوسات اور موبائل فونز کی متعدد دکانوں کو آگ لگ گئی تھی۔

بغداد میں کیا جانےو الا دوسرا بم حملہ دیسی ساخت کے ایک ایسے بم کا دھماکا تھا، جو شہر کے الشعب نامی مشرقی حصے میں کیا گیا۔ یہ علاقہ بھی زیادہ تر شیعہ آبادی والا علاقہ ہے۔ اس دھماکے میں پانچ افراد ہلاک اور 16 زخمی ہوئے۔ باقاعدہ طور پر ابھی تک کسی نے اس دھماکے کی ذمے داری قبول نہیں کی تاہم متعدد عراقی سکیورٹی اہلکاروں نے بتایا کہ اس حملے میں بھی تقریباﹰ یقینی طور پر داعش کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔

عراقی دارالحکومت میں الکرادہ کے انتہائی تباہ کن بم حملے کے چند گھنٹے بعد ملکی وزیر اعظم حیدر العبادی نے صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے ذاتی طور پر اس علاقے کا دورہ بھی کیا۔ العبادی کے اس دورے کی بعد میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح وہاں موجود مشتعل افراد نے حیدر العبادی کے خلاف نعرے بازی کی۔

DW.COM