بغداد میں پھر تشدد، درجنوں افراد ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 17.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بغداد میں پھر تشدد، درجنوں افراد ہلاک

عراقی دارالحکومت میں ایک خاتون خود کش حملہ آور کی طرف سے کیے گئے بم دھماکے اور دیگر پرتشدد کارروائیوں کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق ان تازہ پرتشدد واقعات میں پچاس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے عراقی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ سترہ مئی بروز منگل دارالحکومت بغداد کے علاقے الشعب میں ہونے والے یہ حملے اب تک کی خونریز ترین کارروائی ہیں۔ شمالی بغداد کا یہ شیعہ اکثریتی علاقہ عمومی طور پر پرسکون قرار دیا جاتا ہے۔

عراقی وزیر داخلہ سعد مان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس علاقے میں ایک خاتون خود کش حملہ آور نے یہ کارروائی کی، جس کے نتیجے میں کم از کم اڑتیس افراد ہلاک جبکہ اسّی سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

بغداد پولیس کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بعد ازاں میڈیا کو بتایا کہ اس خودکش حملے کے کچھ دیر بعد ہی ایک کار بم دھماکا بھی ہوا۔ بتایا گیا ہے کہ اس کار بم حملے میں بھی چھ افراد ہلاک ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق یہ کار ایک مارکیٹ کے قریب ہی کھڑی کی گئی تھی، جس میں دھماکا خیز مواد رکھا گیا تھا۔

فوری طور پر ان پرتشدد کارروائیوں کی ذمہ داری کسی گروہ نے قبول نہیں کی۔ تاہم انتہا پسند گروہ داعش ماضی میں اس طرح کے متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکا ہے۔ ایسے ہی حملوں میں گزشتہ سات دنوں کے دوران عراق بھر میں سو سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔

عراقی فورسز مقامی ملیشیا گروہوں اور امریکی عسکری اتحاد کے تعاون سے داعش کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بغداد حکومت کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے میں متعدد اہم مقامات پر ان جہادیوں کو پسپا بھی کر دیا گیا ہے۔

Irak Explosion einer Autobombe in Bagdad

فوری طور پر ان پرتشدد کارروائیوں کی ذمہ داری کسی گروہ نے قبول نہیں کی

خبر رساں ادارے روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق سنی انتہا پسند گروہ داعش عراق میں بالخصوص شیعہ علاقوں پر حملے کرتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان جہادیوں کی کوشش ہے کہ عراق کی شیعہ حکومت کو ناکام بنایا جائے۔ عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی کے بقول یہ جہادی عراق کی سیاسی صورتحال میں جمود کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

دوسری طرف تاجی کے حکام نے بتایا ہے کہ اس گیس فیکٹری کو دوبارہ کھول دیا گیا ہے، جہاں انہی جہادیوں نے حملہ کرتے ہوئے گیارہ افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ ہفتے کے دن کی گئی اس کارروائی میں قدرتی گیس کی اس فیکٹری کے گیس ذخیرہ کرنے والے تین پلانٹ بھی تباہ کر دیے گئے تھے۔