1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بغداد میں سلسلہ وار دھماکے، متعدد ہلاک

عراقی دارالحکومت بغداد کے مختلف علاقوں میں آج بدھ کے روز سلسلہ وار بم دھماکوں میں کم از کم 95 افراد ہلاک جبکہ 400 کے قریب زخمی ہوگئے ہیں۔

default

بغداد میں سلسلہ وار دھماکے حکومتی دفاتر کے باہر ہوئے

عراقی پولیس نے ان دھماکوں میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ جون میں عراق سے امریکی فوج کے انخلاء کے بعد آج ہونے والے حملوں کو اب تک کی سب سے بڑی پرتشّدد کارروائی کہا جارہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق دھماکہ خیز مواد سے بھرا ایک ٹرک شمالی بغداد میں وزیریا کے علاقے میں واقع عراقی وزارت خزانہ کے دفتر کے قریب پہنچ کر زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔ اس دھماکے میں 200 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔ دھماکے کی نوعیت اتنی شدید تھی کہ وزارت خزانہ کے دفتر کے قریب میں واقع ایک پل کا کچھ حصہ بھی تباہ ہوگیا۔ اسی قسم کا ایک اور ٹرک بغداد کے ضلع سلہیہ کے گرین زون میں واقع عراقی پارلیمنٹ اور وزارت خارجہ کے دفتر کے قریب پھٹا۔ دھماکہ کی شدت سے زمین میں تین میٹر گہرا اور دس میٹر گولائی کا گڑھا بن گیا۔

Anschlagserie Irak Flash-Galerie

عراقی وزارت خارجہ کے دفر کے باہر دھماکے کے بعد کا منظر

اسی دوران عراقی دارلحکومت کے مغربی علاقے بایا میں ایک کار بم دھماکے میں دو افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے۔ بغداد کے گرین زون میں دو مارٹر گولے پھینکے گئے، جن میں سے ایک گرین زون کے باہر جاکر گرا۔

بغداد میں عراقی فوج کے ترجمان میجر جنرل قاسم عطا نے سابق عراقی صدر صدام حسین کی جماعت اور اس کے اتحادیوں پر ان دھماکوں کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی سیکیورٹی فورسز نے مغربی بغداد کے علاقے منصور سے القاعدہ کے دو اہم رہنماوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

آج سے ٹھیک چھ سال پہلے بغداد کے اسی شہر میں اقوام متحدہ کے دفتر کے احاطے میں دھماکے دھماکے ہوئے تھے اور آج بھی اسی نوعیت کے حملے ہوئے۔ سال 2003 میں اقوام متحدہ کے دفتر پر ایک ٹرک کی مدد سے بم دھماکہ کیا گیا تھا، جس میں عراق کے لئے اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب سرگیو وی ایرا جاں بحق ہوگئے تھے۔

رپورٹ: انعام حسن

ادارت: گوہر گیلانی