1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بغداد میں سلسلہ وار بم دھماکے، 76 افراد ہلاک

عراقی دارالحکومت بغداد میں سلسلہ وار بم دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم 76 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں 280 سے زائد افراد زخمی ہوئے، جن میں بیشتر شیعہ علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔

default

عراقی حکام کے مطابق یہ بم دھماکے منگل کی شب بغداد کے کم از کم سات علاقوں میں ہوئے ہیں، جن میں سے بعض ریستورانوں کے قریب کئے گئے۔ ان میں سے بیشتر کار بم دھماکے تھے، تاہم کم از کم ایک دھماکہ سڑک کے کنارے نصب بم کے نتیجے میں ہوا جبکہ شہر کے جنوب مغربی علاقے میں مارٹر بھی فائر کئے گئے۔

صدر سٹی کے رہائشی ایک عینی شاہد نے خبررساں ادارے اے پی کو بتایا، ’ہم گلی میں کھڑے تھے، جب ہمیں شور سنائی دیا، ایک جانب سے دھواں اٹھ رہا تھا جبکہ کاروں کے ٹکڑے جا بجا بکھر رہے تھے۔ خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ ادھر اُدھر بھاگے پھر رہے تھے۔ وہ اپنے عزیزوں کے نام پکار رہے تھے۔‘

حکام کا کہنا ہے کہ بیشتر دھماکے مصروف اور شیعہ علاقوں میں ہوئے۔ وزیر صحت صالح مہدی نے سرکاری ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ 80 فیصد زخمیوں کو معمولی علاج کے بعد فارغ کر دیا گیا ہے۔

عراق میں ابھی اتوار کو بھی القاعدہ سے وابستہ شدت پسندوں نے ایک خونریز کارروائی کی، جس میں انہوں نے بغداد ہی میں ایک چرچ میں عبادت گزاروں کو یرغمال بنا لیا تھا۔ وہاں سکیورٹی فورسز کے ساتھ تصادم کے نتیجے میں 52 یرغمالی اور پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں بیشتر عبادت گزار تھے۔

NO FLASH Beerdigung nach Geiselnahme Kirche Bagdad

چرچ پر کئے گئے حملے میں ہلاک ہونے والے بیشتر عبادت گزار تھے

امریکہ، یورپی یونین اور ویٹی کن نے چرچ پر کئے گئے اس حملے کی مذمت کی۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گبس نے کہا کہ امریکہ اس احمقانہ حملے کی مذمت کرتا ہے، جس میں متعدد عراقی شہری ہلاک ہوئے۔ وائٹ ہاؤس نے اس حملے سے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت بھی کی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ بیشتر عراقی ہر طرح کی تشدد کی نفی کرتے ہیں۔

گزشتہ ہفتے دارالحکومت میں ایک خود کش دھماکے میں 25 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ ستمبر میں دوہرے کار بم دھماکوں کے نتیجے میں 23 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ 25 اگست کو عراق بھر میں سلسلہ وار بم دھماکوں میں 50 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس