1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بغداد میں دھماکے، کم از کم 60 افراد ہلاک

عراق کے دارالحکومت بغداد کو جمعرات کی صبح سلسلہ وار بم دھماکوں نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کم از کم ساٹھ افراد ہلاک جبکہ 160 سے زائد زخمی ہیں۔

رواں ہفتے عراق کے شیعہ اور سنی دھڑوں کے درمیان شروع ہونے والے سیاسی اختلافات کے بعد سامنے آنے والی تشدد کی یہ بدترین کارروائیاں ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عراقی شیعہ وزیر اعظم نوری المالکی کے سنی نائب صدر طارق الہاشمی کے ساتھ اختلافات ملک کو ایک مرتبہ پھر فرقہ وارانہ فسادات کی جانب دھکیل سکتے ہیں۔

حکام نے بتایا ہے کہ جمعرات کی صبح دارالحکومت بغداد اور اس کے مضافات میں کم از کم 14 بم دھماکے ہوئے۔ یہ دھماکے سڑک کنارے نصب بموں اور بارود سے بھری گاڑیوں کے ذریعے کیے گئے۔ بظاہر زیادہ تر دھماکے شیعہ علاقوں میں ہوئے ہیں تاہم سنی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

وزیر اعظم نوری المالکی نے طارق الہاشمی پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے مسلح افراد کے گروپ بنا رکھے ہیں، جو حکومتی شخصیات کی ہلاکتوں میں ملوث ہے۔ اسی سلسلے میں طارق الہاشمی کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے جا چکے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ نائب صدر نیم خود مختار علاقے کردستان میں روپوش ہیں۔

وزیر اعظم المالکی ایک اور سنی سیاستدان نائب وزیر اعظم صالح مطلق کے خلاف بھی عدم اعتماد کے ووٹ کے لیے کوشاں ہیں۔

Irak Vizepräsident Al-Haschimi

طارق الہاشمی پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے مسلح افراد کے گروپ بنا رکھے ہیں

عراق کے سنی مسلمانوں کا خیال ہے کہ یہ تمام اقدامات ان کوششوں کا حصہ ہیں، جن کا مقصد امریکی افواج کے بعد سارے عراق کو شیعہ مسلمانوں کے زیر کنٹرول لانا ہے۔

ابھی تک کسی بھی گروپ نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم مبصرین کا خیال ہے کہ ایسے سلسلہ وار دھماکوں کی صلاحیت ملک میں موجود دہشت گرد گروہ القاعدہ ہی رکھتا ہے۔ زیادہ تر دھماکے شیعہ علاقوں میں ہوئے ہیں، جو کہ ماضی میں بھی القاعدہ کا ’پسندیدہ ہدف‘ رہے ہیں۔

امریکی فوجی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان کے ملک چھوڑنے کے بعد القاعدہ ایک مرتبہ پھر یہاں منظم ہو سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر القاعدہ دوبارہ منظم ہونے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو عراق میں اس تنظیم کے مخالفین شیعہ دھڑے بھی جوابی کارروائیاں کریں گے، جس کے بعد ملک ایک مرتبہ پھر فرقہ وارانہ جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے جیسا کہ چند برس پہلے ہو چکا ہے۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: ندیم گِل

DW.COM