1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بغداد میں دھماکہ ، کم از کم 60 ہلاک

عراقی حکام نے تصدیق کی ہے کہ بدھ کے دن بغداد میں ایک بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 60 افراد ہلاک جبکہ سو سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ دھماکہ شعیہ اکثریتی علاقے الصدر میں کیا گیا۔

default

بغداد میں ہونے والا یہ دھماکہ اس سال کا بدترین دھماکہ قرار دیا جا رہا ہے

عینی شاہدین کا خیال ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ بُدھ کے روز بھی عراق کے کئی شہروں میں بم دھماکے کئے گئےجبکہ تشدد کے کئی دیگر واقعات بھی ذرائع ابلاغ کا موضوع بنے رہے۔

خیال رہےکہ رواں سال کے موجودہ خوفناک بم دھماکے سےصرف پانچ روز قبل ہی امریکی فوج سے بغداد کے صدر علاقے کا کنٹرول عراقی فوج کے حوالے کیاتھا اور امریکی فوجی اِس ماہ کے آخر تک عراق بھر سے انخلا کر رہی ہے ۔ اِس مناسبت سے امریکی فوج کے ترجمان بریگیڈئر جنرل Steve Lanza نے اپنے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ وہ اِنخلا کے بعد کی صورت حال میں خرابی پیدا ہونےکا اندازہ لگائےہوئے ہیں لیکن عراقی سکیورٹی اہلکار حالات پر قابُو کِس طرح پائیں گے یہ ایک چیلنج ہے۔ اُن کے مطابق امریکی فوجی عراقی سکیورٹی اہلکاروں کی تربیت کے لئے بڑے بڑے شہروں میں موجُود رہے گی۔

دوسری طرف عراق میں ہونے والے حالیہ بم دھماکوں اور اُن میں مرنے والوں کی کثیر تعداد سےامریکی اور عراقی انتظامیہ میں بے چینی اور پریشانی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ بیس جون کو کرکوک کے شیعہ ترکمان آبادی والے علاقے تازہ خرماتُو میں بارُود سے بھرے ٹرک کے ذریعے خودکُش حملے میں کم از کم بہتر افرا د ہلاک ہوئے تھے، جبکہ بائیس جون کو عراق کے طول و عرض میں ہونے والے پرتشدد واقعات میں اکتیس ہلاکتیں رپورٹ کی گئی۔

Irak Bombenanschlag Tote

حالیہ دنوں میں عراق بھر میں پر تشدد واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے

عراقی اور امریکی حکام کا یہ کہنا ہے کہ مجموعی صورت حال ابتر نہیں ہو رہی البتہ ایسے بڑے بم دھماکوں میں ہلاکتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ماہ جُون میں ہونا والا یہ دسواں بڑا بم دھماکہ ہے۔ تشدد کی تازہ ترین لہر سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک بار پھر سنی انتہاپسند متحرک ہو نے کے بعد شیعہ بستیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

اِس صورت حال میں عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کی داخلہ اور سکیورٹی انتظامیہ کو انتہائی بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔ امریکی فوج کے انخلا کے بعد اندرونی سلامتی کی صورت حال مزید خراب ہوئی تو مذہبی تفریق کی خلیج وسیع ہونے کے ساتھ ساتھ پیدا شدہ تھوڑے بہت قربت کے امکانات اور معدوم ہو جائیں گے۔ فرقہ واریت کو ہوا ملنے پر تشدد کی نئی لہر عراق کو اپنی گرفت میں لے سکتی ہے۔

بغداد کا صدر علاقہ شیعہ انتہاپسند رہنما مقتدی الصدر کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔ اُن کی مہدی ملیشیاء نے گزشتہ سال اپنی سرگرمیوں کو معطل کردیا تھا اور عراقی حکومت نے علاقے کا سکیورٹی سنبھال لیا تھا۔

عابد حسین

ادارت : عاطف بلوچ