1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بغداد میں دو خودکش اور ایک کار بم حملوں میں85 سے زائد ہلاک

عراقی دارالحکومت میں کیے گئے آج بدھ کے روز تین کار بم حملوں میں اسی سے زائد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ بغداد کے الصدر ضلع میںں کیے گئے ایک کار بم حملے کی ذمہ داری ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے قبول کر لی ہے۔

default

کار بم حملے کی ذمہ اری ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے قبول کر لی ہے

عراقی پولیس کے مطابق بغداد کے دو مزید علاقوں میں آج بدھ کے روز مختلف اوقات میں بم حملے کیے گئے۔ ان میں سے ایک خود کش حملہ نواحی علاقے کاظمیہ میں ہوا اور اِس میں اٹھارہ ہلاک اور تیس سے زائد زخمی ہوئے۔ شمالی بغداد کے مقام جامیہ میں ہونے والے کار بم حملے میں سات افراد ہلاک اور بائیس زخمی ہوئے۔ بغداد میں آج بدھ کے روز ہونے والے تین حملوں میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد اٹھاسی تک پہنچ گئی ہے۔

قبل ازیں آج بدھ کی صبح ایک کار بم حملہ بغداد کے شیعہ اکثریتی آبادی والے علاقے الصدر میں کیا گیا۔ بارود سے بھری ایک گاڑی صدر سٹی میں ایک بیوٹی سیلون کے باہر کھڑی کی گئی تھی، جسے دھماکے سے اڑا دیا گیا۔ بمبار نے اس گاڑی کو اُس وقت دھماکے سے اڑایا دیا، جب ایک مقامی مارکیٹ میں خریداری کرنے والوں کی بھیڑ تھی۔ عراقی پولیس اور طبی ذرائع کے مطابق ہلاک شدگان میں خواتین کی تعداد زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ ہسپتال پہنچائے گئے کئی زخمیوں کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی گئی ہے۔ سکیورٹی ذرائع اور طبی حکام نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ الصدر کا علاقہ بغداد کے شمال میں واقع ہے۔

عسکریت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی حامی نیوز ایجنسی عماق نے بتایا ہے کہ اس خود کش حملے کا نشانہ عراق کے شیعہ ملیشیا فائٹرز تھے۔ اس جہادی تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ بارود سے بھری کار کو اڑانے کا کام اس کے ایک خود کش بمبار ابو سلیمان الانصاری نے کیا۔ رواں برس فروری میں بھی ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے دو خود کش حملہ آوروں کے الصدر علاقے میں کیے گئے حملوں میں ستر سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے انتہائی سخت گیر عقیدے کے حامل جہادی اپنے طور پر شیعہ مسلمانوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتے ہیں۔

Irak Explosion einer Autobombe in Bagdad

کار بم حملہ بغداد کے شیعہ اکثریتی آبادی والے علاقے الصدر میں کیا گیا

ایک دہائی قبل عراقی دارالحکومت میں خود کش حملے اور بم دھماکے تواتر سے کیے جاتے تھے لیکن بتدریج سکیورٹی کی صورت حال بہتر ہونے سے صورت حال خاصی بہتر تو ہوئی ہے لیکن اب بھی شیعہ آبادی اور سکیورٹی فورسز کو سنی عسکریت پسند تنظیم کی جانب سے بم حملوں کا نشانہ بنانے کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہتا ہے۔ مبصرین کے مطابق عراق میں شیعہ اکثریتی آبادی اور سنی اقلیت کے درمیان مذہبی خلیج پیدا ہونے کی وجہ سے پرتشدد حالات میں تسلسل پایا جاتا ہے۔

فرقہ وارانہ تقسیم کی وجہ سے امریکا کی حمایت میں عراقی فوج کی ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف جاری مہم کو بھی شدید مسائل کا سامنا ہے۔ عراقی فوج نے شمالی اور مغربی عراق میں ایک وسیع علاقے پر قابض عسکریت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ سے علاقے بازیاب کرانے کا آپریشن شروع کر رکھا ہے۔ اسی آپریشن کے تحت الانبار صوبے کے شہر رمادی کو جہادیوں کے قبضے سے چھڑایا گیا تھا۔

DW.COM