1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بغداد: دو کاربم دھماکوں میں 29 افراد ہلاک

عراقی دارلحکومت بغداد میں آج اتوار کے روز ہونے والے یکے بعد دیگرے دو کار بم دھماکوں میں کم از کم 29 افراد ہلاک جبکہ 110 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ رواں ماہ کے دوران ایک ہی دن میں ہونے والی یہ سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔

default

سکیورٹی حکام کے مطابق یہ دھماکے بغداد کے جنوبی علاقے عدن جنکشن اور منصور میں مقامی وقت کے مطابق صبح سوا دس بجے کے قریب ہوئے۔ عراقی وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد متاثرہ علاقوں اور اس کے قریبی ہسپتالوں میں ہنگامی صورتحال کے باعث ابھی تک نقصان کا درست اندازہ نہیں ہوپارہا تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم 29 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ عراقی حکام نے ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

Irak Anschläge Wahltag 2010 Bagdad

بغداد ہی میں 17 اگست کو ایک خودکش حملے میں 59 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

عینی شاہدین کے مطابق عدن کے علاقے میں ہونے والا دھماکہ عراقی پولیس کے ایک دفتر کے سامنے ہوا۔ اس دھماکے کے نتیجے میں زمین میں 10 فٹ چوڑا گڑھا پڑ گیا۔ اس دھماکے سے 19 افراد ہلاک ہوئے۔

منصور کے علاقے میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں قریب موجود دو عمارتوں کے علاوہ متعدد گاڑیاں بھی تباہ ہوئیں۔ یہ دھماکہ ایک موبائل فون کمپنی 'ایشیا سیل' کے ایک دفتر کے سامنے ہوا۔ حکام کے مطابق منصور میں ہونے والا دھماکہ کم از کم 10 افراد کی ہلاکت کا باعث بنا۔

عراقی وزارت داخلہ کے مطابق ان دھماکوں کے علاوہ بغداد کے مغربی علاقے 'غزالیہ' میں ایک کار سے چپکائے گئے میگنیٹک بم کے پھٹنے کے نتیجے میں کار میں سوار باپ بیٹا ہلاک ہوگئے۔

بغداد میں آج اتوار کے روز ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد رواں ماہ کے دوران دہشت گردانہ حملوں میں کسی ایک دن میں ہونے والی ہلاکتوں میں سب سے زیادہ ہے۔ اس سے قبل 17 اگست کو ایک خودکش حملے میں 59 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

رپورٹ : افسر اعوان

ادارت : عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس