1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بغداد حملے ہم نے کئے: ریاست اسلامی عراق

ویب سائٹ پر جاری کئے گئے بیان میں اس گروپ کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز کئے گئے دھماکے کفار کے خلاف جنگ کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہیں۔

default

عراق میں اتوار کو ہوئے بم دھماکوں کے بعد کا منظر

عراقی دارلحکومت میں اتوار کے روز ہوئے خود کش حملوں کی ذمہ داری ایک عراقی تنظیم، ریاست اسلامی عراق نے قبول کر لی ہے۔ اس گروپ کے دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے قریبی روابط ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ تنظیم القاعدہ کا عراقی ونگ ہے۔

انٹرنیٹ پراس تنطیم کی طرف سے جاری کئے گئے ایک بیان میں ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ تنظیم نے اس بیان کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ اگست میں ہوئے دھما کے بھی ریاست اسلامی عراق نے ہی کئے تھے۔

واضح رہے کہ اسی برس اگست کے مہینے میں بھی بغداد میں وزارت خارجہ سمیت دو مزید سرکاری عمارات کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں بڑے پیمانے پرہلاکتیں ہوئی تھیں۔ اس دھماکے زد میں بچوں کو لے جانے والی ایک بس بھی آگئی تھی، جس کے نتیجے میں سے تیس بچے بھی ہلاک ہو گئے تھے۔

ویب سائٹ پرجاری کئے گئے اپنے بیان میں اس گروپ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اتوار کے روز کئے گئے دھماکے مغربی ممالک کے خلاف ان کی جنگ کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہیں۔ عراق میں ایک حکومتی اہلکار کا کہنا تھا کہ اگست اور اکتوبر میں کئے گئے دھماکوں کی نوعیت ایک ہی تھی۔

یاد رہے کہ گزشتہ اتوارکو دہشت گردوں نے بغداد میں وزارت انصاف اورایک سرکاری عمارت کو اپنے حملوں کا نشانہ بنایا تھا۔ ان خود کش حملوں میں 155 کے قریب لوگ ہلا ک اور سینکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔

رپورٹ:عبدالرؤف انجم

ادارت:عدنان اسحاق

DW.COM