1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بغداد بم حملے، یورپی یونین کی مذمت

یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے بغداد بم دھمکوں کی مذمت کی ہے۔ برسلز میں کیتھرین ایشٹن کے ایک ترجمان نے ان کا بیان جاری کیا۔ ان دھماکوں میں سفارت خانوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔

default

یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین ایشٹن

کیتھرین ایشٹن نے اپنے بیان میں کہا کہ یورپی یونین بغداد میں ہونے والے کار بم دھماکوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ ایشٹن کے مطابق بغداد میں ہونے والے اس پرتشدد واقعے سے عراق اور یورپی یونین کے امن و سلامتی کے مشترکہ ہدف کو دھچکا پہنچا ہے۔

Irak / Bagdad / Anschlag

یہ حملے شہر کے اس علاقے میں ہوئے جہاں مختلف ممالک کے سفارت خانے قائم ہیں

دوسری جانب ان دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 42 ہوگئی ہے۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق ان پے در پے تین بم حملوں کے علاوہ مزید دو کار بم حملہ آوروں کو ان کے مقصد میں کامیاب نہیں ہونے دیا گیا۔ شہر کے آپریشنز کمانڈ سینٹر کے ترجمان میجر جنرل قاسم نے کہا ہے کہ ان حملوں میں خصوصی طور پر سفارت خانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ حکام کے مطابق پہلے دو بم دھماکے ایک منٹ سے بھی کم وقفے سے کئے گئے۔

اتوار کے روز عراقی دارالحکومت بغداد کے مغربی علاقے میں ہونے والے ان تین سلسلہ وار کار بم دھماکوں میں 200 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ ان میں سے دو دھماکے مصر اور ایران کے سفارت خانوں کے سامنے پیش آئے، جبکہ تیسرا بم حملہ جرمنی، اسپین اور شام کے سفارتی مشنز کے قریب کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں سفارت خانوں کی حفاظت پر مامور عراقی گارڈز کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

مبصرین کا خیال ہے کہ بغداد کے محفوظ ترین علاقے میں پے در پے بم حملوں کے ذریعے عسکریت پسندوں نے ایک واضح پیغام دیا ہے کہ انتخابات کے باوجود عراق ایک غیر مستحکم اور غیر محفوظ ملک ہے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : کشورمصطفیٰ

DW.COM