1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’بغاوت ناکام‘: فوج میں صفائی ناگزیر ہو گئی ہے، ایردوآن

ترک صدر نے آج علی الصبح ایک نشریاتی خطاب میں کہا کہ فوج کے ایک چھوٹے سے گروہ کی طرف سے بغاوت کی سازش کو عوام نے ناکام بنایا ہے۔ استبنول میں انہوں نے مزید کہا کہ فوج میں شامل غداروں کو سخت سزا دی جائے گی۔

ترک فوج کے ایک گروہ نے دعویٰ کر رکھا ہے کہ اس نے ملک کی اہم تنصیبات کا کنٹرول سنبھال لیا ہے جبکہ جمہوری حکومت کے منتخب وزیر اعظم بن علی یلدرم کا کہنا ہے کہ فوجی بغاوت کی کوشش کو ناکام بنانے میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ جمعے کی شب فوج کے ایک دھڑے نے اچانک ہی ملک میں مارشل لاء کے نافذ کا اعلان کر دیا تھا۔

اسی غیر یقینی صورتحال میں ہفتے کی صبح ترک صدر رجب طیب ایردوآن استنبول کے ہوائی اڈے پہینچے تو ان کے سینکڑوں حامیوں نے وہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ عوام نے اپنے عزم سے اس سازش کو ناکام بنا دیا ہے۔

اس موقع پر ایردوآن نے این ٹی وی کے ذریعے اپنے نشریاتی خطاب میں کہا کہ وہ اپنے عوام کو چھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گے بلکہ اپنے ملک میں ہی رہیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بغاوت کرنے والوں کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا ہو گا۔

ترک صدر کا مزید کہنا تھا کہ بغاوت کی اس کوشش کے بعد ملکی فوج میں ’آپریشن کلین اپ‘ ناگزیر ہو گیا ہے۔ ایردوآن کا کہنا تھا کہ ملکی عوام کی وجہ سے یہ بغاوت ناکام ہوئی ہے۔ ایردوآن کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بغاوت کے پیچھے امریکا میں مقیم ترک مذہبی رہنما فتح اللہ گؤلن کا کردار تھا۔

یہ امر اہم ہے کہ عالمی بردای کے ساتھ ساتھ گؤلن نے بھی ترکی میں فوجی بغاوت کی کوشش کی سخت مذمت کی ہے۔ ایردوآن کے بقول انقرہ اور استنبول میں درجنوں باغی فوجیوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور جلد ہی حالات مکمل طور پر قابو میں آ جائیں گے۔

ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق انقرہ اور استنبول سے کم ازکم پچاس باغی فوجیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ تاہم ساتھ ہی ان دو اہم شہروں میں تشدد کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔ جمعے اور ہفتے کی رات کے دوران وہاں متعدد دھماکوں کی اطلاع بھی ملی جبکہ ذرائع ابلاغ نے بتایا کہ مسلسل فائرنگ بھی ہوتی رہی۔

خبر رساں اداروں کی طرف سے موصول ہونے والی متضاد اطلاعات کے مطابق انقرہ اور استنبول میں پرتشدد واقعات بھی رونما ہوئے ہیں، جن کے نتیجے میں مبینہ طور پر کم ازکم سترہ افراد ہلاک جبکہ درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ صدر ایردوآن کی حامی افواج نے باغی فوجی گروہ کا ایک ہیلی کاپٹر بھی مار گرایا ہے۔

DW.COM