بعض حلقوں کے بیانات قومی مقاصد کے لیے نقصان دہ، راحیل شریف | حالات حاضرہ | DW | 12.08.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بعض حلقوں کے بیانات قومی مقاصد کے لیے نقصان دہ، راحیل شریف

پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ آپریشن ضرب عضب کے ثمرات عوام تک پہنچنا شروع ہوگئے ہیں، اس آپریشن سے حاصل نتائج سے توجہ ہٹانے والے بیانات مددگار ثابت نہیں ہوں گے۔

Pakistan Raheel Sharif in Rawalpindi

ملک میں امن و امان کی بحالی کے لیے تمام سکیورٹی اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کی خدمات کو سراہتے ہیں، آرمی چیف

پاکستانی فوج کے شعبہء تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آرمی چیف نے آج فوجی ہیڈکوارٹرز میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی قیادت کی۔ اس اجلاس میں پرنسپل اسٹاف افسران، ڈی جی آئی ایس آئی اور راولپنڈی کور کے کمانڈر شریک تھے۔ اس اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان اور فوجی آپریشن ضرب عضب میں پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے آرمی چیف نے کہا، ’’نیشنل ایکشن پلان ہمارے مقاصد کے حصول کے لیے مرکزی اہمیت رکھتا ہے اوراس پر پیش رفت نہ ہونے سے آپریشن ضرب عضب کا حتمی مرحلہ متاثر ہو رہا ہے۔‘‘

آرمی چیف نے کہا کہ جب تک تمام فریقین معنی خیز نتائج نہیں دیتے اور تمام کمزوریوں کو دور نہیں کرلیا جاتا، تب تک دہشت گردی کا ناسور ملک سے ختم نہیں ہوگا اور امن و امان کا حصول ممکن نہ ہوگا۔

Pakistan Quetta Bombenanschlag vor einer Klinik

کوئٹہ میں دہشت گردانہ حملے میں 70 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے کہا،’’ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت کامیابیاں حاصل کی ہیں، پوری قوم سکیورٹی افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔‘‘ پاکستان کی فوج کے سربراہ نے کہا کہ جب آپریشن ضرب عضب کے ثمرات عوام تک پہنچنا شروع ہوگئے ہیں تو ایسے موقع پر اس آپریشن سے حاصل نتائج سے توجہ ہٹانے والے بیانات مددگار ثابت نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ بعض حلقوں کے بیانات اور تجزیے قومی مقاصد کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

Pakistan Eröffnung des neuen Parlaments 1. Juni 2013

بم دھماکا خفیہ ایجنسیوں کی ناکامی ہے، محمود خان اچکزئی

واضح رہے کہ رواں ہفتے پیر کے روز کوئٹہ میں دہشت گردانہ حملے میں 70 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حملے کے بعد قومی اسمبلی کے اجلاس میں محمود خان اچکزئی کے علاوہ قومی اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف خورشید شاہ، اعتزاز احسن اور کچھ دیگر سیاسی رہنماؤں نے کہا تھا کہ کوئٹہ میں بم دھماکا خفیہ ایجنسیوں کی ناکامی ہے۔ رکن پارلیمان محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران کہا تھا کہ بلوچستان میں دہشت گردانہ حملے کی ذمہ داری بھارتی خفیہ ادارے ’را‘ پر عائد کرنے سے کام نہیں چلے گا اور ملکی جمہوری قیادت کو سکیورٹی ایجنسیوں کے افسران کو برطرف کر دینا چاہیے جو اپنی ذمہ داریاں بہ خوبی انجام دینے میں ناکام رہے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آرمی چیف ملک میں امن و امان کی بحالی کے لیے تمام سکیورٹی اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کی خدمات کو سراہتے ہیں۔

DW.COM