1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’بطور صدر مجھے مکمل حق حاصل ہے‘، ڈونلڈ ٹرمپ

وائٹ ہاؤس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے حساس معلومات سینیئر روسی حکام کو فراہم کرنے کا دفاع کرتے ہوئے اس عمل کو ’انتہائی مناسب‘ قرار دیا ہے۔ خود ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے اس اقدام کو بالکل درست قرار دیا ہے۔

امریکی واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک ہفتہ قبل روسی وزیر خارجہ سیرگئی لاوروف کے ساتھ ملاقات کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے دہشت گرد گروپ داعش کے حوالے سے انتہائی حساس معلومات انہیں فراہم کی تھیں۔ اس خبر کے بعد سے امریکی صدر پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق داعش کے ایک منصوبے کے بارے میں مذکورہ انتہائی حساس معلومات اسرائیل نے حاصل کی تھی۔ مشرق وُسطیٰ میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اسرائیل امریکا کا انتہائی اہم اور قریبی ساتھی ہے۔ امریکی صدر کی طرف سے یہ معلومات روسی حکام کو فراہم کرنے سے نہ صرف اسرائیل اور امریکا کی پارٹنرشپ خطرے میں پڑ سکتی ہے بلکہ وائٹ ہاؤس پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ اس معاملے کی وضاحت کرے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے بدھ کو علی الصبح جاری کی گئی ٹویٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بطور صدر انہیں اس بات کا ’مکمل حق‘ حاصل ہے کہ وہ ’دہشت گردی سے متعلق حقائق‘ اور ایئرلائن سیفٹی سے متعلق معلومات کا روس کے ساتھ تبادلہ کریں۔ ٹرمپ کے قریبی ساتھیوں نے منگل 16 مئی کو واشنگٹن پوسٹ کی اس رپورٹ کو مکمل طور پر غلط قرار دیا تھا۔ تاہم ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر میک ماسٹر نے کہا ہے کہ صدر غیر ملکی رہنماؤں کے ساتھ معمول کے مطابق معلومات کا تبادلہ کرتے رہتے ہیں۔ ان کا یہ بھی استدلال تھا کہ ان میں سے بہت سی معلومات پہلے ہی عوامی سطح پر دستیاب ہے۔

جیمز کومی کی برطرفی کی وجہ بھی روس کے ساتھ رابطوں کی تحقیقات

دوسری طرف امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایف بی آئی کے سابق سربراہ جیمز کومی کو ان کو برطرف کرنے سے پہلے یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور قومی سلامتی کے سابق مشیر مائیکل فلن کے خلاف تحقیقاتی عمل روک دیں۔

Weißes Haus Trump trifft Lawrow

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ایک ہفتہ قبل روسی وزیر خارجہ لاوروف کے ساتھ ملاقات کے دوران ٹرمپ نے داعش کے حوالے سے انتہائی حساس معلومات انہیں فراہم کی تھیں

جیمز کومی کی سربراہی میں امریکا کا وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایف بی آئی اس بارے میں چھان بین کر رہا تھا کہ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے اعلیٰ عہدیدار روس کے ساتھ رابطوں میں تھے یا نہیں۔ نیو یارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ اسی پس منظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ایف بی آئی کے سربراہ جیمز کومی کو ان کے عہدے سے برطرف کیا تھا۔