1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بش سینیئر ’ضدی کمینے‘ چینی اور ’نک چڑھے‘ رمزفیلڈ پر برس پڑے

سابق امریکی صدر جارج بش سینیئر نے اپنی خود نوشت سوانح میں اپنے بیٹے جارج ڈبلیو بش کے دور صدارت میں نمایاں عہدوں پر کام کرنے والے ڈِک چینی اور ڈونلڈ رمزفیلڈ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

سابق امریکی صدر جارج بش (سینیئر) نے اپنی سوانح عمری میں اپنے بیٹے جارج ڈبلیو بش کے دور اقتدار میں اہم عہدوں پر فائز رہنے والے ڈِک چینی کو ’ضدی کمینہ‘ اور ڈونلڈ رمزفیلڈ کو ’نک چڑھا‘ قرار دیا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ بش سینیئر نے اپنی کتاب میں اپنے بیٹے جارج ڈبلیو بش کے دور صدارت میں انتہائی اثر و رسوخ کے حامل ان افراد کو ایسے القابات سے نوازا ہے۔

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق بش سینیئر سن 1989ء سے 1993 تک امریکی صدر کے عہدے پر فائز رہے اور وہ اپنے بیٹے کے دورِ صدارت سے متعلق بحث اور عراق اور افغانستان میں امریکی فوجی مداخلت کے موضوع پر ہمیشہ خاموش رہے ہیں، تاہم اپنی تازہ سوانح عمری میں انہوں نے سن 2001 تا 2009ء امریکی صدر کے عہدے پر فائز رہنے والے اپنے بیٹے جارج ڈبلیو بش کے دور حکومت میں کلیدی عہدوں پر کام کرنے والے ان دونوں افراد سے متعلق غیرمعمولی حد تک سخت الفاظ کا استعمال کیا ہے۔

US National Archiv Fotos Dick Cheney USA 11. September 9/11

’سابق نائب صدر ڈک چینی انتہائی سخت موقع کے حامل ہیں‘

بش سینیئر کا کہنا ہے کہ سابق نائب صدر ڈِک چینی ایک ’ضدی کمینہ’ شخص ہے، جس نے اپنی ہی ایک امارت بنا رکھی تھی اور اس نے جارج ڈبلیو بش کو بے انتہا متاثر کیا۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق سابق صدر بش نے یہ بات اپنی سوانح عمری لکھنے والے جان میاچم سے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈِک چینی ہی نے جارج ڈبلیو بش کو سخت ترین موقف کا حامل بنایا۔

اسی طرح سابق وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ سے متعلق بش سینیئر کا کہنا ہے کہ اس ’نک چڑھے ساتھی‘ نے دوسروں کا موقف جاننے اور بات سننے میں کبھی دلچسپی نہیں لی اور صدر کے لیے نہایت بری خدمات انجام دیں۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق سابق صدر بش سینیئر ڈِک چینی سے اچھی طرح سے واقف ہیں اور انہی کے دور صدارت میں چینی وزیردفاع تھے جب امریکا نے کویت پر عراقی قبضے کے خاتمے کے لیے سن 1991ء میں ’آپریشن ڈیزرٹ سٹورم‘ شروع کیا تھا۔

بش سینیئرکے مطابق، ’’ڈِک چینی بطور نائب صدر اس ڈِک چینی سے انتہائی مختلف تھے، جنہیں میں جانتا تھا یا جن کے ساتھ میں نے کام کیا تھا۔ وہ نائب صدر بننے کے بعد انتہائی سخت موقف کے حامل ہو گئے اور بدل گئے تھے۔‘‘

بش سینیئر مزید کہتے ہیں، ’’وہ سخت ترین موقف کے حامل ایسے افراد میں سے ایک بن گئے، جو ہر شے صرف لڑائی کر کے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور مشرق وسطیٰ میں امریکا کے لیے جگہ بنانے کے لیے طاقت کے استعمال کے حامی ہیں۔‘‘

بش سینیئر کا خیال ہے کہ ڈِک چینی اپنی انتہائی قدامت پسند بیوی لین سے متاثر ہوئے ہیں۔ تاہم بش سینیئر نے یہ بھی کہا کہ ڈِک چینی اور ڈونلڈ رمزفیلڈ کو اتنی طاقت دینے میں اصل قصور ان کے بیٹے جارج ڈبلیو بش ہی کا تھا۔