1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

بشریٰ یونان میں پناہ کی درخواست کیوں نہیں دے رہی؟

یونانی جزیرے لیسبوس میں یورپی یونین کی معاونت سے ’ہاٹ اسپاٹ‘ بنایا گیا ہے جہاں پناہ گزینوں کے کوائف کا جائزہ لینے کے بعد شورش زدہ ممالک سے آئے مہاجرین کو دیگر یورپی ممالک میں منتقل کرنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

بشریٰ ایک نوجوان شامی لڑکی ہے جو کچھ دن پہلے ہی اپنی ماں کے ساتھ ربڑ کی کشتی کے ذریعے بحیرہ ایجیئن عبور کر کے لیسبوس پہنچی ہے۔ ’ہاٹ اسپاٹ‘ پر ان کی انگلیوں کے نشانات لیے گئے ہیں اور ایک مختصر انٹرویو کے بعد انہیں یونان میں چھ ماہ تک عارضی قیام کا اجازت نامہ دیا گیا ہے۔

بشریٰ سر پر سیاہ اسکارف لیے ہے اور اس کی ماں سگریٹ پیتی ہے۔ شام، اور عراق جیسے ممالک سے آنے والے تارکین وطن یونان میں بھی پناہ کی درخواست دے سکتے ہیں۔ لیکن بشریٰ ایسا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔

حال ہی میں لیسبوس پہنچنے والی بیس سالہ شامی شہری بشریٰ اپنے طور پر اگلی کشتی کا ٹکٹ لے کر ایتھنز اور پھر وہاں سے جرمنی کی طرف سفر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ بشریٰ کا کہنا ہے، ’’وہاں (جرمنی میں) جانا ہی بہتر ہے۔ ہم جنگ کے باعث شام سے بھاگ کر آئے ہیں۔‘‘

صرف بشریٰ ہی نہیں، بلکہ ترکی سے یونان پہنچنے والے زیادہ تر مہاجرین بسوں اور پیدل سفر کے ذریعے بلقان ریاستوں سے ہوتے ہوئے مغربی یورپی ممالک، بالخصوص جرمنی کا سفر اختیار کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین اور یورپی یونین کے تعاون سے تارکین وطن کی یونان میں رجسٹریشن کے مرکز کھولے گئے ہیں۔ ’ہاٹ اسپاٹ‘ نامی ان مراکز میں پناہ کے متلاشی افراد کی رجسٹریشن کے بعد یورپی یونین کے ممالک میں مہاجرین کی تقسیم کے معاہدے کے تحت انہیں مختلف یورپی ممالک میں منتقل کیا جانا ہے۔

لیکن یورپ میں پناہ کی درخواست دینے کا یہ طریقہ کار اس قدر پیچیدہ اور غیر منظم ہے کہ تارکین وطن خود ہی مغربی یورپ کا سفر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ خصوصاﹰ مشرقی یورپ کے ممالک مہاجرین کی تقسیم کے منصوبے پر عمل کرنے پر راضی نہیں ہیں۔ تقسیم کے اس معاہدے کے تحت ایک لاکھ ساٹھ ہزار تارکین وطن کو یونان اور اٹلی سے منتقل کیا جانا تھا لیکن اب تک صرف تیس پناہ گزینوں کو ہی یونان سے لکسمبرگ منتقل کیا جا سکا ہے۔

سرد موسم اور ترکی کی جانب سے سختی کے باعث یونانی جزیروں پر پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد میں کمی آئی ہے، لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ آیا یہ کمی عارضی ہے یا مستقل؟ کمی کے باوجود ہر روز اوسطاﹰ دو ہزار تارکین وطن لیسبوس پہنچتے ہیں۔

Griechenland Flüchtling Tod bei Überfahrt

یورپ آنے والے زیادہ تر مہاجرین بحیرہ ایجیئن عبور کر کے یونانی جزیروں پر پہنچے۔

شام، عراق، جنوبی سوڈان، اریٹیریا، یمن اور فلسطین سےآنے والے تارکین وطن کو تو ’انسانی ہمدردی‘ کی بنیاد پر یونان میں چھ ماہ قیام کی عارضی اجازت دے دی جاتی ہے جس کے بعد انہیں ملک چھوڑنا ہوتا ہے۔ لیکن پاکستان، ایران اور افغانستان کے شہریوں کو یونان سے نکل جانے کے لیے صرف تیس دن کا نوٹس دیا جاتا ہے۔

لیسبوس میں موجود اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ تارکین وطن کو قائل کیا جاتا ہے کہ وہ ’ہاٹ اسپاٹ‘ کے ذریعے ہی پناہ کی درخواست دیں، لیکن زیادہ تر لوگ اپنے طور پر ہی یورپ کا سفر جاری رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

DW.COM