1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بشار الاسد کو اب اقتدار چھوڑ دینا چاہیے، اوباما

امریکہ اور فرانس کے سفارت خانوں پر حملوں کے بعد شام اور مغربی ممالک کے مابین کشیدگی میں مزید شدت پیدا ہو گئی ہے۔ امریکی صدر اوباما نے کہا کہ بشار الاسد حکومت کرنے کا جواز کھو چکے ہیں۔

default

شام میں حکومت کے حامیوں کی جانب سے امریکی اور فرانسیسی سفارت خانوں پر حملوں کی عالمی برادری کی جانب سے مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ بشار الاسد اگر ملک میں اصلاحات لے آتے تو صورتحال بہت مختلف ہوتی، ’’ لیکن انہوں نے یہ موقع گنوا دیا‘‘۔ امریکی صدر کے بقول بشار الاسد عوام کی نظروں میں حکومت کرنے کا جواز کھو چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ شام میں جوکچھ ہو رہا ہے وہ قابل قبول نہیں ہے اور یہ اپنے ہی لوگوں کے خلاف بربریت ہے۔

اس سے قبل اقوام متحدہ، فرانس، جرمنی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے بھی دمشق میں سفارت خانوں پر حملوں کی کڑے انداز میں مذمت کی گئی تھی۔ اقوام متحدہ نے مطالبہ کیا ہے کہ شامی حکومت سفارت خانوں، وہاں کے عملے اور دیگر املاک کی حفاظت کو یقینی بنائے۔

Syrien Angriff der US Botschaft in Damaskus

دمشق میں امریکی سفارتخانے پر حملے کا منظر

امریکی صدر نے کہا ہے، ’’میں شام پر یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اگر ہمارے سفارت خانوں کو نشانہ بنایا گیا تو ہم ہر ضروری اقدام اٹھا سکتے ہیں‘‘۔ اطلاعات کے مطابق امریکی حکومت شام پر مزید پابندیاں عائد کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن بھی شامی صدر کے خلاف اسی طرح کا ایک بیان دے چکی ہیں۔ دمشق حکام نے ہلیری کلنٹن کے بیان کو مسترد کردیا تھا۔ شام میں جمہوریت کے لیے جاری تحریک میں شامل افراد نے دمشق حکام پر بین الاقوامی سطح پر سیاسی دباؤ میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم فوج کو اس معاملے سے دور رکھنے کی درخواست بھی کی جارہی ہے۔ انسانی حقوق کی مقامی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مارچ کے وسط سے صدر بشار الاسد کے خلاف شروع ہونے والے مظاہروں میں اب تک 13سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ تقریباً 12 ہزار افراد کوگرفتار کیا گیا ہے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM