1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بشار الاسد کا مستقبل: امریکی روسی عدم اتفاق پر یورپ پریشان

واشنگٹن انتظامیہ ماسکو حکومت کو اس امر کا قائل کرنے میں ناکام رہی ہے کہ شامی صدر بشار الاسد کو جانا ہو گا۔ یورپی طاقتیں پریشان ہیں کہ اُنہیں پانچ سال سے جاری شامی خانہ جنگی کے خاتمے کی کوششوں سے الگ کر دیا گیا ہے۔

Syrien-Konferenz in Wien

14 نومبر 2015ء: آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں امریکا اور روس سمیت متعدد ممالک کے وزرائے خارجہ شام کی صورتِ حال پر تبادلہٴ خیال کر رہے ہیں

شام میں قیام امن کے موضوع پر منگل سترہ مئی کو آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں مجوزہ مذاکرات سے پہلے یہ سوال ایک بار پھر اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ شامی صدر بشارالاسد کا مستقبل کیا ہو گا۔

نیوز ایجنسی روئٹرز کے ایک جائزے کے مطابق کچھ سفارت کاروں اور تجزیہ نگاروں کے خیال میں واشنگٹن حکومت غالباً ماسکو حکومت کی اس نیت کو بھانپنے میں ناکام رہی ہے کہ وہ آئندہ بھی بشار الاسد کے برسرِ اقتدار رہنے کے حق میں ہے۔

امریکا کی قومی سلامتی کونسل میں صدر باراک اوباما کے ایک سابق مشیر فلپ گورڈن نے کہا: ’’بہت سے حلقوں نے تسلسل کے ساتھ روس کے اسد کو اقتدار سے محروم نہ ہونے دینے کے عزم کا غلط اندازہ لگایا ہے۔ وہ (روسی) واضح طور پر یہ عزم رکھتے ہیں کہ وہ ایسا نہیں ہونے دیں گے۔‘‘

ویانا میں اقوام متحدہ کے ایک سفارت کار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یورپی ممالک اس حوالے سے شکوک و شبہات کا شکار نظر آتے ہیں کہ شام میں قیام امن کے حوالے سے کوششیں صرف امریکا اور روس تک ہی محدود ہو کر رہ گئی ہیں حالانکہ ایسے بہت سے اختراعی حل موجود ہیں، جنہیں دیکھ کر شامی اپوزیشن گروپ یقینی طور پر لڑائی کرنا بند کر دیں گے اور مذاکرات کی میز پر آن بیٹھیں گے: ’’لیکن ہم خود شامیوں کے ساتھ اس طرح کے کسی حل پر بحث کی منزل سے ابھی بہت دور ہیں کیونکہ امریکا اور روس اس معاملے میں اپنے ہی اختلافات کو دور کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور اب تک ایسا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔‘‘

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ امریکا اور روس ہی کی کوششوں سے شامی خانہ جنگی کے خاتمے کی جانب اہم پیشرفت شروع ہو سکی ہے لیکن اسد کے معاملے پر ان دونوں بڑی طاقتوں کے درمیان اختلافِ رائے بدستور جاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 2011ء میں شروع ہونے والے اور ڈھائی لاکھ سے زیادہ انسانوں کی ہلاکت کا باعث بننے والے اس تنازعے کے خاتمے کے امکانات کم ہی نظر آتے ہیں۔

Adel al-Jubeir al-Dschubeir Saudi Arabien

23 اکتوبر 2015ء: سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر ویانا میں شام میں قیام امن پر مذاکرات میں شرکت کر رہے ہیں

کچھ حلقوں کے نزدیک امریکا روس کی جارحانہ سفارت کاری کے آگے بند یا تو باندھ نہیں پا رہا یا ایسا کرنا ہی نہیں چاہتا۔ سعودی عرب تو امریکا سے مایوس ہو کر پھر سے یہ کہہ رہا ہے کہ اسد کے خلاف باغیوں کو مسلح کیا جائے۔ سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر کہتے ہیں: ’’اسد کو ہر حال میں جانا ہے، یا تو سیاسی عمل کے نتیجے میں یا پھر فوجی طاقت کے ذریعے۔‘‘