1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بشار الاسد کا عام معافی کا اعلان

شام کے صدر بشار الاسد نے ملک میں جاری احتجاجی مظاہروں کے تناظر میں عام معافی کا اعلان کیا ہے۔ یہ معافی اخوان المسلمین سمیت تمام سیاسی تحریکوں کے ارکان کے لیے بھی ہے۔

default

شام کے صدر بشار الاسد

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بشار الاسد کی جانب سے عام معافی کا اعلان شام کے سرکاری ٹیلی وژن پر کیاگیا۔ انہوں نے یہ اعلان اپنے گیارہ سالہ دورِ اقتدار کے خلاف دس ہفتوں سے جاری احتجاجی مظاہروں کے بعد کیا۔

اس عرصے میں مظاہرین کے خلاف سکیورٹی فورسز کا کریک ڈاؤن بھی جاری رہا ہے، جس پر عالمی برادری کی جانب سے سخت ردِ عمل سامنے آیا۔

ٹیلی وژن کے مطابق یہ معافی اخوان المسلمین سمیت سیاسی تحریکوں کے تمام ارکان کے لیے ہے۔ اخوان المسلمین نے 1982ء میں بشار الاسد کے والد کے خلاف مسلح احتجاج کیا تھا اور اس جماعت کے رکن ہونے پر موت کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔

عام معافی کا اعلان اصلاحات کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ قبل ازیں اصلاحات کے تحت اڑتالیس سالہ ایمرجنسی ہٹائی گئی جبکہ ملک کے شمالی علاقوں میں آباد کرد باشندوں کو شہریت دینے کا اعلان بھی کیا گیا۔

تاہم ان اصلاحات کے باوجود مظاہرین کے خلاف پرتشدد کارروائیاں جاری ہیں۔ انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ وہاں ان مظاہروں میں اب تک ایک ہزار شہری ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ دس ہزار سے زائد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

دمشق حکومت پرتشدد کارروائیوں کے لیے مسلح گروہوں، اسلام پسندوں اور غیرملکیوں کو ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں ایسے حالات کے نتیجے میں ایک سو بیس سے زائد سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

روئٹرز نے احتجاج میں شامل کارکنوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ منگل کو بھی رستن کے علاقے میں ٹینکوں کی شیلنگ کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

Hillary Clinton

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن

امریکہ نے بشار الاسد کی جانب سے عام معافی کے اعلان پر ردِ عمل میں کہا ہے کہ انہیں ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر کا کہنا ہے: ’وہ اصلاحات پر بات کر چکے ہیں، لیکن ہمیں عملی طور پر بہت تھوڑا کام ہوتا نظر آیا ہے، جس سے ملک کو درپیش مسائل حل کیے جا سکیں۔‘

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ بشار الاسد کی پوزیشن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر باراک اوباما نے بشار الاسد کو اقتدار کی منتقلی کے عمل کی قیادت کرنے یا ’راستے سے ہٹنے‘ کے لیے کہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بشار الاسد نے اپنے ہی لوگوں کے خلاف جاری تشدد کو روکنے پر کوئی بات نہیں کی۔

رپورٹ: ندیم گِل/ر رساں ادارے

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس