1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

بس نمبر چھ سو اٹھہتر میں سواری ’مہنگی‘ پڑی

مصری معاشرے میں خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے پر خاصی تشویش پائی جاتی ہے۔ اس موضوع پر ایک فلم بھی بنائی گئی ہے، جس میں بس میں خواتین کے ساتھ چھیڑخانی کا ایک حقیقی واقعہ پیش کیا گیا ہے۔

مصر کی فلمی صنعت کی جانب سے پیش کی جانے والی اس فلم ’بس 678‘ کو اہم خیال کیا جا رہا ہے۔ اس فلم کی کہانی دارالحکومت قاہرہ میں اسی نمبر کی بس سے متعلق ہے، جس میں فائزہ نامی ایک خاتون سفر کر رہی تھی، جب ایک مرد نے اسے جنسی طور پر ہراساں کرنے کی کوشش کی۔

یہ سہ پہر کا وقت تھا کہ مسافروں سے کھچا کھچ بھری بس میں فائزہ کو سوار ہونا پڑا۔ سیٹ نہ ملنے کی وجہ سے وہ کسی نہ کسی طور درمیان میں پہنچ کر کھڑی ہو گئی۔ ایسے میں ایک شخص نے آگے بڑھ کر اس کی قربت حاصل کر لی۔ اس نے آہستگی سے فائزہ کو دبوچنے کی کوشش کی۔ اس شخص کا خیال تھا کہ دیگر عورتوں کی طرح فائزہ اس زیادتی کو چپ چاپ برداشت کر جائے گی۔

یہ اس مرد کی بہت بڑی غلط فہمی ثابت ہوئی۔ جب فائزہ کو اس شخص کی زیادتی کا احساس ہوا تو اس نے ایک چھوٹے سے بلیڈ سے اس کی ران کے اوپری حصے پر وار کیا۔ وہ شخص خون میں لت پت ہو کربس کے اندر ہی گر گیا۔ فائزہ بڑے آرام سے بس سے اتری اور قاہرہ کی بھیڑ میں گم ہو گئی۔

Buchmesse in Kairo

مصری خواتین کو گاہے بگاہے ہراساں کرنے والوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے

یہی اصل واقعہ حال ہی میں ریلیز ہونے والی مصری فلم کا پلاٹ بھی ہے۔ اس فلم کے ہدایت کار محمد ضائب ہیں۔ فلم کی ریلیز پر ان کا واضح طور پر کہنا تھا کہ یہ براہ راست عورتوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے موضوع پر مبنی فلم ہے اور اس میں موضوع پر براہ راست بات کی گئی ہے۔ ضائب کے مطابق اس موضوع کو مصری معاشرت کے پس منظر میں ڈھکے چھپے انداز میں سمویا نہیں گیا ۔

یہ فلم مصر میں پسند کی جا رہی ہے۔ ایک گھریلو خاتون عامرہ فوزی کا خیال ہے کہ اس فلم سے عورت کو یقینی طور پر زبان میسر آئے گی کہ وہ جنسی طور پر ہراساں کرنے کے علاوہ دوسرے مسائل پر بھی اپنی آواز بلند کرے۔ مصر میں سن 2008 میں ایک خاتون نوہا اوستاث کو جنسی طور پر ہراساں کرنے پر فوجداری مقدمہ دائر کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی تھی، اس نوعیت کا پہلا مقدمہ تھا۔

مصری مرکز برائے حقوق نسواں کے اعداد و شمار کے مطابق 83 فیصد مصری خواتین کو مختلف مقامات پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان مقامات میں گھر سے لیکر بازار اور دفاتر سے لے کر عام کاروباری ادارے شامل ہیں۔ چالیس فیصد خواتین کا اس تنظیم کو بتانا تھا کہ ان کے ساتھ ہراساں کرنے کے ساتھ ساتھ جنسی زیادتی کا ارتکاب بھی کیا گیا۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس