1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بزرگ پاکستانی سیاستدان غلام مصطفیٰ جتوئی انتقال کرگئے

پاکستان کے معروف بزرگ سیاستدان غلام مصطفیٰ جتوئی جمعہ کو اٹھاسی برس کی عمر میں لندن میں انتقال کر گئے۔

default

جتوئی نے ایک طویل عرصے تک پاکستانی قانون ساز اداروں میں سندھ کی عوام کی نمائندگی کی

چودہ اگست سن 1931 کو سندھ کے ضلع نواب شاہ میں پیدا ہونے والے غلام مصطفیٰ جتوئی نے پاکستان میں نگران وزیراعظم کے فرائض بھی انجام دئے تھے۔

غلام مصطفیٰ جتوئی کے والد خان بہادر عمران بخش خان جتوئی تقسیم ہند سے قبل بمبئی قانون ساز اسمبلی کے چار مرتبہ رکن منتخب ہوئے تھے۔ خود غلام مصطفیٰ جتوئی سن1958ء میں پہلی مرتبہ مغربی پاکستان کی صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ وہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں صوبہ سندھ کے وزیر اعلیٰ بھی رہے۔ پاکستان کی تاریخ میں کسی صوبے کے وزیراعلیٰ کے طور پر وہ سب سے طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے سیاستدان بھی رہے۔

غلام مصطفیٰ جتوئی نے ابتدائی تعلیم کراچی گرامر اسکول سے حاصل کی۔ اعلیٰ تعلیمی مراحل کے دوران انہوں نے برطانیہ سے بار ایٹ لاء کی ڈگری حاصل کی۔ غلام مصطفیٰ جتوئی نے سن 1969ء میں پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ 1977 میں جنرل ضیاء الحق کی فوجی بغاوت کے بعد وہ جمہوریت کی بحالی کی تحریک میں پیش پیش رہے تھے اور انہیں سن 1983 اور سن 1985 میں گرفتار بھی کیا گیا تھا۔

اس کے بعد غلام مصطفیٰ جتوئی نے نیشنل پیپلز پارٹی کے نام سے اپنی سیاسی جماعت قائم کر لی تھی۔ سن 1988ء میں جنرل ضیاء الحق کے ہلاکت کے بعد منعقد ہونے والے انتخابات میں جتوئی نے اپنی جماعت کے علاوہ دیگر آٹھ سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر اسلامی جمہوری اتحاد کی بنیاد رکھی تھی، تاہم اس اتحاد کو اُن انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ہاتھوں معمولی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

سن 1992ء میں بے نظیر بھٹو کی حکومت کو بدعنوانی کے الزامات کی بنیاد پر برطرف کیا گیا تو اس موقع پر غلام مصطفیٰ جتوئی ملک کے نگران وزیراعظم بھی بنا دئے گئے تھے۔ غلام مصطفیٰ جتوئی اور ان کی جماعت بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور اقتدار میں حکومتی اتحاد کا حصہ بھی رہے تھے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : مقبول ملک