1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

بری یادوں سے نجات کی دوا

بلڈ پریشر کے علاج کے لئے بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والی ایک بیٹا بلاکر دوائی کو ہوسکتا ہے کہ بہت جلد بری یادوں کو ختم کرنے اور ذہنی الجھنوں سے متعلق مسائل سے نجات دلانے کے لئے بھی استعمال کیا جاسکے۔

default

ایمسٹرڈیم یونیورسٹی کی ماہر نفسیات میریل کنٹ (Merel Kindt) کے مطابق فشار خون یعنی بلڈ پریشر کے علاج کے لئے استعمال ہونے والی دوائی جس کا جینیرک نام پروپرانولول Propranololکوجب صحت مند افراد کو دیا گیا تو ان میں مکڑیوں سے متعلق خوف پر مبنی یادوں میں کمی واقع ہوگئی۔

میریل کنٹ کے مطابق انہوں نے اس طبی جانچ کے دوران جو اہم بات نوٹ کی وہ یہ تھی کہ جانچ میں حصہ لینے والے رضاکاروں میں مکڑی کے خوف کا ردعمل ختم ہوگیا۔ جس کا مطلب ہوا کہ ان میں اس خوف سے متعلق بری یاداشت کمزور پڑ گئی ہے۔

طبی جریدے نیچر نیورو سائنس میں چپھنے والے نتائج کے مطابق یہ بہت اہم پیش رفت ہے۔ کیونکہ یہ دوا مریضوں میں بری اور تکلیف دہ یادوں سے متعلق دیگر مسائل کو حل کرنے کا ایک طریقہ ثابت ہوسکتی ہے۔

کنٹ اور ان کی ٹیم نے ساٹھ افراد جن میں مرد اور خواتین دونوں شامل تھیں، پر تجربات کئے۔ ان افراد کو مکڑی کی تصاویر دکھائی گئیں اور ساتھ ہی بجلی کا ہلکا جھٹکا لگایا گیا۔ جس سے ان افراد میں مکڑی کی تصویر کے ساتھ ایک خوف وابستہ ہوگیا۔

جب کہ دوسرے گروپ کو مکڑی کی تصاویر تو دکھائی گئیں مگر انہیں بجلی کا جھٹکا نہیں لگایا گیا۔ لہذا اس گروپ میں شامل افراد کے لئے مکڑی کی تصویر ایک عام تصویر تھی جس کے ساتھ کسی قسم کا کوئی خوف وابستہ نہیں تھا۔

تجربے کے اگلے دن مشاہدہ کیا گیا کہ وہ گروپ جسے مکڑی کی تصویر کے ساتھ بجلی کاجھٹکا دیا گیا تھا اور بعدمیں انہیں تجرباتی دوائی دی گئی تھی مکڑی کی تصویر سے متعلق ان کےیاد اور دوسرے گروپ کے لوگوں کی یاد میں کوئی فرق نہیں تھا۔

محققہ میریل کنٹ کے مطابق دونوں گروپ کے افراد کے لئے خوفزدہ کرنے والی مکڑی اور عام مکڑی میں کوئی فرق نہیں تھا۔ جس سے ثابت ہوا کہ دوائی لینے سے ان افراد میں مکڑی کے خوف سے متعلق یاداشت کمزور پڑ گئی۔

تحقیق کرنے والے نفسیات دانوں کے گروپ کے مطابق اگلے مرحلے میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ بری یادیں بھلانے کے لئے اس دوائی کا اثر کتنی دیر تک قائم رہتا ہے۔ اور پھر آخر میں اس دوائی کو اس طرح کے مسائل رکھنے والے اصل مریضوں پر آزمایا جائے گا۔