1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بریگزٹ، یورپی یونین کی پہلی ’پتنگ‘ کٹ گئی

برطانیہ میں یورپی یونین سے انخلاء یا اس کا حصہ رہنے کے لیے کرائے جانے والے ریفرنڈم کے نوے فیصد سے زائد ووٹوں کی گنتی مکمل ہو گئی ہے۔ غیر حتمی نتائج کے مطابق برطانوی عوام نے یورپی یونین کا ساتھ چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

برطانیہ کے مختلف ذرائع ابلاغ کے مطابق نوے فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد سامنے آنے والے نتائج کے مطابق 52 فیصد ووٹ بریگزٹ کے حق میں پڑے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ووٹوں کا فرق اتنا زیادہ ہے کہ نتیجے کا اب تبدیل ہونا تقریباﹰ ناممکن ہی دکھائی دے رہا ہے۔

یورپی یونین سے اب تک کوئی بھی رکن ملک الگ نہیں ہوا ہے۔ تاہم ماہرین کو خدشہ ہے کہ برطانوی عوام کے اس فیصلے کے بعد مزید ممالک بھی اس کی پیروی کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر آج جمعے کو ہی انتہائی دائیں بازو کے ولندیزی رہنما گیئرٹ ولڈرز نے بھی ہالینڈ میں اسی طرح کا ایک ریفرنڈم کرانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ یورپی رہنما پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ انخلاء کا مطلب انخلا ہی ہے اور اس سلسلے میں مزید بات چیت نہیں کی جائے گی۔

اس نتیجے کا اثر فوری طور پر برطانوی کرنسی پاؤنڈ پر بھی پڑا ہے، جو 1985ء کے بعد اپنی سب سے کم قدر پر پہنچ گیا ہے۔ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا تھا کہ ریفرنڈم کا نتیجہ کچھ بھی ہو وہ سربراہ حکومت کے منصب پر فائز رہیں گے۔ کیمرون کے بقول ریفرنڈم کرانے کے اپنے فیصلے پر وہ نادم نہیں ہیں۔ تاہم اب اس نتیجے کے بعد برطانیہ کی سیاسی صورت کے تبدیل ہونے کے بھی قوی امکانات ہیں کیونکہ ڈیوڈ کیمرون یورپی یونین کے ساتھ رہنے کے حق میں تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ آج شام تک کیمرون مستعفی ہونے کا اعلان بھی کر دیں۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق اس ریفرنڈم کے بعد برطانیہ نامعلوم سفر کی جانب چل پڑا ہے۔ اس اداریے میں مزید لکھا گیا ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد براعظم یورپ کو متحد کرنے اور ہر طرح کے تنازعات کو ختم کرنے کے جو منصوبے بنائے گئے ہیں وہ اس اس نتیجے سے بعد عدم استحکام کا شکار ہو جائیں گے۔

46.5 ملین برطانوی شہری اس ریفرنڈم ووٹ ڈالنے کے اہل تھے اور حکام کے مطابق 23 جون کو ہونے والے اس ریفرنڈم میں ووٹنگ کا تناسب 72 فیصد کے لگ بھگ رہا، جو 2015ء کے عام انتخابات سے بھی زیادہ ہے۔