1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بریگزٹ کے فوری بعد بھارتی برطانوی تجارتی معاہدے کا امکان کم

برطانیہ نے یورپی یونین چھوڑنے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ لیکن یہ امکان کم ہے کہ بریگزٹ کے فوراﹰ بعد برطانیہ اور بھارت کے مابین ایک نیا تجارتی معاہدہ طے پا جائے گا۔ ایسا کوئی معاہدہ مستقبل قریب میں طے پاتا نظر نہیں آتا۔

Indien Großbritannien Besuch von Theresa May bei Narendra Modi (Reuters/A. Abidi)

برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے بھارتی وزیر اعظم مودی کے ساتھ

اس موضوع پر ڈوئچے ویلے کے شری نیواس مازُومدارُو نے لکھا ہے کہ یورپی یونین کی رکنیت ترک کر دینے کے بعد برطانیہ کی ایک بڑی تجارتی طاقت کے طور پر حیثیت کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ اس کے دوسرے ملکوں کے ساتھ دوطرفہ بنیادوں پر تجارتی معاہدے کیسے اور کب طے پاتے ہیں۔ ایک بات لیکن واضح ہے کہ لندن اور نئی دہلی کے مابین ایک آزاد تجارتی معاہدہ مستقبل قریب میں طے پاتا نظر نہیں آتا۔

برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے کہہ چکی ہیں کہ برطانیہ کا یورپی یونین چھوڑنے کا فیصلہ خود کو باقی ماندہ دنیا سے اقتصادی طور پر الگ تھلگ کر لینے یا اقتصادی حفاظت پسندی کی سوچ کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ لندن چاہتا ہے کہ وہ عالمی سطح پر اپنا کردار زیادہ پرجوش اور منفرد انداز میں ادا کرے۔

کیا بھارت و امریکا کی قربت پاکستان کے لیے خطرہ ہے؟

پاکستانی صدر کی طرف سے بھارت کو مذاکرات کی دعوت

’غیر ملکیوں سے نفرت‘ کی بناء پر امریکا میں بھارتی شہری قتل

جہاں تک برطانیہ اور بھارت کے تجارتی تعلقات کی بات ہے تو دونوں ملکوں کے مابین تجارت اور سرمایہ کاری کی بنیادیں بہت مضبوط ہیں۔ بھارت برطانیہ میں سرمایہ کاری کرنے والا تیسرا سب سے بڑا ملک اور اسی یورپی ملک میں ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا کرنے والا دوسری سب سے بڑی ریاست بھی ہے۔

Symbolbild Brexit (Getty Images/AFP/D. Leal-Olivas)

کئی بڑے بھارتی ادارے یورپ میں اپنے کاروبار پر بریگزٹ کے ممکنہ منفی اثرات کے حوالے سے تشویش کا شکار ہیں

اسی طرح برطانیہ دنیا کی ترقی یافتہ اور ترقی کی دہلیز پر کھڑی معیشتوں کے گروپ جی ٹوئنٹی کا رکن ایک ایسا ملک ہے، جو جنوبی ایشیائی ریاست بھارت میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ یوں اگر ان دونوں ممالک کے مابین  کوئی آزاد تجارتی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ لندن اور نئی دہلی کے ایک دوسرے کے ساتھ پہلے سے مضبوط تجارتی روابط میں مزید استحکام کا سبب بنے گا۔

برطانیہ بریگزٹ کے بعد بھارت کے ساتھ جلد از جلد ایک دوطرفہ تجارتی معاہدہ طے کر لینا چاہتا ہے، اس کا ثبوت یہ بھی تھا کہ ٹریزا مے نے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد یورپ سے باہر سب سے پہلے جس ملک کا دورہ کیا تھا، وہ بھارت ہی تھا۔

برطانیہ نے یورپی یونین سے ’طلاق‘ کی دستاویز پر دستخط کر دیے

برطانوی پارلیمان نے بریگزٹ کی راہ ہموار کر دی

’بریگزٹ‘ مے کو بات چیت شروع کرنے کا اختیار مل گیا

لیکن بھارت کے کئی بڑے بڑے تجارتی اداروں کے سربراہان کو اس بارے میں بھی تشویش ہے کہ بریگزٹ کے بعد ان کی یورپ میں مجموعی تجارتی اور کاروباری حیثیت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ بھارت کی قریب 800 کمپنیاں ایسی بھی ہیں جو برطانیہ میں اپنے یورپی صدر دفاتر سے پورے یورپ میں اپنے کاروبار چلاتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی واضح ہے کہ جب کسی بھی دو ممالک یا اقتصادی خطوں کے مابین کوئی تجارتی معاہدہ طے کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، تو اس کے لیے مذاکرات تو سالہا سال تک جاری رہتے ہیں۔

G20 Logo

برطانیہ اور بھارت دونوں جی ٹوئنٹی کے رکن ہیں

اس کی ایک مثال بھارت کی طرف سے یورپی یونین سے کیے جانے والے وہ بہت طویل مذاکرات بھی ہیں، جن کی کامیاب تکمیل پر بھارت یونین کے ساتھ ایک آزاد تجارتی معاہدے کی منزل حاصل کر لینا چاہتا ہے۔  نئی دہلی اور برسلز کے مابین یہ مذاکرات 2007ء میں شروع ہوئے تھے اور آج ایک عشرہ گزر جانے کے بعد بھی یہ بات چیت ابھی جاری ہے۔

 اس تناظر میں بھارت کے ساتھ یہی کٹھن مذاکراتی مرحلہ برطانیہ کو بھی طے کرنا ہو گا۔ اس لیے یہ امکان بہت کم ہے کہ بریگزٹ کے کچھ ہی عرصے بعد لندن نئی دہلی کے ساتھ ایک جامع اور دوطرفہ آزاد تجارتی معاہدہ طے کر لے گا۔

یورپی یونین اور بھارت کے مذاکرات میں جو متنازعہ موضوعات بار بار بحث کے متقاضی رہے، ان میں سے ایک نئی دہلی کا یہ مطالبہ بھی تھا کہ بھارتی پیشہ ور ماہرین کے لیے آئندہ یورپی یونین میں ویزے اور ترک وطن سے متعلق شرائط بھی نرم کی جائیں۔ یورپی سطح پر ہونے والی اس بات چیت میں اس بھارتی مطالبے کی سب سے زیادہ مخالفت بھی ‌خود برطانیہ ہی نے کی تھی۔

 اسی لیے یہ بات بھی اتنی آسان نہیں ہو گی کہ لندن کے ساتھ دوطرفہ بنیادوں پر آزاد تجارتی معاہدے کے لیے بھی نئی دہلی کی طرف سے یہی مطالبہ رکھا جائے اور جلد ہی برطانیہ اسے مان بھی لے۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات