1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بریگزٹ کے خلاف لندن میں ہزارہا شہریوں کا احتجاجی مظاہرہ

برطانوی دارالحکومت میں ہزارہا شہریوں نے احتجاج کرتے ہوئے برطانیہ کے یورپی یونین سے آئندہ انخلاء کے خلاف مظاہرہ کیا۔ ’یورپ کے لیے عوامی مارچ‘ کے نام سے اس احتجاج کے دوران شرکاء نے وسطی لندن میں ملکی پارلیمان تک مارچ کیا۔

لندن سے ہفتہ نو ستمبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق آج کی اس بڑی احتجاجی ریلی میں شریک مظاہرین ملکی حکومت کے ان منصوبوں کے خلاف احتجاج کر رہے تھے، جن کے مطابق برطانیہ 2019ء تک یورپی یونین سے نکل جائے گا۔ اس حکومتی فیصلے کی بنیاد برطانیہ میں گزشتہ برس کرایا جانے والا ایک عوامی ریفرنڈم بنا تھا۔

برطانیہ بریگزٹ کے لیے ’چالیس ارب یورو تک ادا کرنے پر تیار‘

برطانیہ کسی خوش فہمی میں نہ رہے، میرکل

بریگزٹ کے فوری بعد بھارتی برطانوی تجارتی معاہدے کا امکان کم

منتطمین کے مطابق اس مارچ کے انعقاد کا مقصد یہ تھا کہ برطانوی عوام کو متحد ہو کر دوبارہ یہ سوچنے پر مجبور کر دیا جائے کہ قدامت پسندوں کی ٹوری پارٹی کی قیادت میں کیا جانے والا یہ فیصلہ منسوخ کیا جانا چاہیے کہ برطانیہ یورپی یونین سے نکل جائے۔

ویڈیو دیکھیے 04:18

کووینٹری کے طلبہ اور محققین بریگزٹ سے خوش نہیں

اس مارچ کے دوران، جس میں ہزارہا شہریوں نے شرکت کی، شرکاء میں سے بہت سے یورپی یونین کے پرچم اٹھائے ہوئے تھے جبکہ کئی دیگر نے یا تو اپنے چہرے یورپی یونین کے پرچم کے رنگوں کے ساتھ پینٹ کر رکھے تھے یا پھر وہ ایسے بینر اٹھائے ہوئے تھے، جن پر لکھا تھا، ’’یونین سے نکلنے کے بجائے بریگزٹ سے نکلو۔‘‘

اس موقع پر لندن میں ملکی پارلیمان کے ایک لبرل ڈیموکریٹ رکن ایڈ ڈیوی نے ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر شرمندگی ہوتی ہے کہ لندن حکومت کس طرح یورپی یونین کے نمائندوں کے سامنے برطانیہ کے موقف کی نمائندگی کر رہی ہے۔

ایڈ ڈیوی نے کہا، ’’برطانیہ یورپی یونین کے ساتھ بریگزٹ سے متعلق اپنی بات چیت شروع کر چکا ہے۔ ہمارے لیے یہ بات اب غصے کی حد تک نکل کر شرمندگی کی سطح تک پہنچ گئی ہے۔ اس لیے اب برطانوی حکمرانوں کو بھی شرمندہ ہونا چاہیے، جو پورے برطانیہ کو شرمندہ کروا رہے ہیں۔‘‘

اس مظاہرے میں شامل بہت سے شرکاء اور کئی دیگر مقررین نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ برطانوی عوام کو ایک بار پھر یہ موقع دیا جانا چاہیے کہ جب بریگزٹ مذاکرات مکمل ہو جائیں، تو وہ حتمی طور پر منظوری دے سکیں کہ آیا برطانیہ کو واقعی یورپی یونین کو خیرباد کہہ دینا چاہیے۔

People´s March for Europe London

’یورپ کے لیے عوامی مارچ‘ کے شرکاء وسطی لندن میں مارچ کرتے ہوئے ملکی پارلیمان کی عمارت تک گئے

برطانیہ میں بریگزٹ ریفرنڈم کے نام سے وہ عوامی رائے دہی جون 2016ء میں کرائی گئی تھی، جس میں برٹش ووٹروں نے معمولی اکثریت سے یہ حمایت کر دی تھی کہ ان کا ملک اب تک 28 رکنی یورپی یونین سے نکل جائے۔ لندن حکومت برسلز کے ساتھ بریگزٹ سے متعلق عملی مذاکرات کا آغاز کر چکی ہے لیکن یہ سلسلہ انتہائی سست رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے۔

اسی دوران خود لندن حکومت کی خواہش ہے کہ برطانیہ 29 مارچ 2019ء تک یورپی یونین سے نکل جائے۔ لیکن اس موضوع پر بات چیت میں التواء اس وجہ سے بھی دیکھنے میں آ رہا ہے کہ اس بارے میں لندن اور برسلز کے مابین شدید اختلاف پایا جاتا ہے کہ بریگزٹ کے مکمل ہونے سے قبل برطانیہ کو یونین کو کتنی مالی ادائیگیاں کرنا ہوں گی۔

بریگزٹ: یورپی شہریوں سے متعلق برٹش ارادے: دستاویز لیک ہو گئی

جرمن شہریت حاصل کرنے والے برطانوی باشندوں کی تعداد چار گنا

برطانیہ نے یورپی یونین سے ’طلاق‘ کی دستاویز پر دستخط کر دیے

اس کے علاوہ برطانیہ اور یورپی یونین کے بارے میں اس بارے میں ممکنہ بات چت بھی ابھی شروع نہیں ہوئی کہ برسلز لندن کے ساتھ اپنے مستقبل کے تجارتی روابط کے سلسلے میں جو معاہدہ کرے گا، اس کی نوعیت کیا ہو گی۔

لندن میں برطانوی پارلیمان کے دارالعوام کہلانے والے ایوان زیریں میں پیر 11 ستمبر کے روز اس ’تنسیخی بل‘ پر رائے شماری متوقع ہے، جس کا مقصد یورپی یونین کے کئی قوانین کو دوبارہ برطانوی قوانین کا حصہ بنانا ہے۔ اب تک یورپی قوانین کہلانے والے یہ ضابطے اس وقت دوبارہ برطانوی قوانین کا حصہ بنیں گے، جب برطانیہ کی یونین سے علیحدگی عملاﹰ مکمل ہو جائے گی۔

DW.COM

Audios and videos on the topic