1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بریگزٹ کا خطرہ، سونے کی ڈیمانڈ بڑھ گئی

لندن کے مے فیئر ڈسٹرکٹ میں قائم سونے کے ایک شو روم Sharps Pixley میں سونے کے بارز اور سکّوں کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اس کی وجہ ہے، برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کی صورت میں اپنا سرمایہ محفوظ رکھنا۔

برطانوی عوام کی طرف سے سونے کی خرید میں یہ اضافہ دراصل رائے عامہ کے ان تازہ جائزوں کے بعد ہوا ہے، جن سے پتہ چلا ہے کہ یورپی یونین سے نکلنے کے لیے چلائی جانے والی مہم 'LEAVE' کی حمایت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اختتام ہفتہ پر ICM اور YouGov کی طرف سے کرائے گئے رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق یہ مہم یورپی یونین میں رہنے کے حق میں چلائی جانے والی مہم 'In' کے مقابلے میں چار سے پانچ پوائنٹ کی برتری حاصل کر چکی ہے۔ برطانیہ میں یورپی یونین میں رہنے یا اسے چھوڑنے کے سوال پر عوامی ریفرنڈم 23 جون کو ہونا ہے۔

شارپس پکسلی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر راس نورمن کے مطابق، ’’لگتا ہے کہ یہ بات اب لوگوں کے شعور میں بیٹھ گئی ہے کہ بریگزٹ اب اصل میں ممکن ہے۔ سونے کو ایڈوانس میں خریدا جا رہا ہے اور یہاں تک کہ فوری طور پر اس کی شپنگ بھی کرائی جا رہی ہے۔‘‘ نورمن کے مطابق ’بریٹینیا کوائنز‘ کی طلب خاص طور پر بڑھی ہے کیونکہ قانونی کرنسی تصور کیے جانے والے یہ سکّے کیپیٹل گین ٹیکس سے بھی مستثنٰی ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سونا فروخت کرنے والے دیگر اداروں کا بھی یہی کہنا ہے کہ اس دھات کی طلب میں پانچ سے 10 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ آن لائن سونا فروخت کرنے والی ویب سائٹ BullionVault.com کے مطابق رواں ماہ برطانیہ میں سونے کی طلب دیگر خطوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کی صورت میں ممکنہ طور پر پیدا ہونے والے معاشی خطرات سے بچنے کے لیے لوگ ایک گرام سونے سے لے کر، جس کی قیمت 50 پاؤنڈز ہے، ایک کلوگرام وزن کی گولڈ بار خرید سکتے ہیں، جس کی قیمت اٹھائیس ہزار پاؤنڈ ہے۔

اگر برطانوی عوام یورپی یونین سے اخراج کا فیصلہ کرتے ہیں تو سونے کی طلب میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ روئٹرز کی طرف سے کرائے جانے والے ایک جائزے کے مطابق اگر برطانیہ یورپی یونین سے نکلتا ہے تو ڈالر کے مقابلے میں برطانوی پاؤنڈ کی قیمت میں نو فیصد تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔