1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بریگزٹ نے قوم پرستوں میں متحدہ آئر لینڈ کی سوچ پیدا کر دی

برطانیہ کا یورپی یونین سے اخراج کا معاملہ اب فقط لزبن معاہدے کا آرٹیکل 50 کرنے تک موقوف ہے۔ ایسے میں شمالی آئرلینڈ کی آبادی میں مختلف خدشات پیدا ہونے لگے ہیں اور قوم پرست پھر سے متحدہ آئر لینڈ کی باتیں کرنے لگے ہیں۔

بریگزٹ ریفرنڈم کے بعد خیال کیا جا رہا ہے کہ اسکاٹ لینڈ اور خاص طور پر برطانیہ کے حصے شمالی آئرلینڈ میں ایسی سوچ نے تقویت حاصل کی ہے کہ لندن سے علیحدہ ہو جانے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ شمالی آئرلینڈ کے کیتھولک قوم پرست ایک متحدہ آئرلینڈ کا خواب دیکھنے لگے ہیں۔ اسکاٹ لینڈ کی علیحدگی کا ذکر پھر سے مقامی سیاسی پارٹیوں کا موضوع بن گیا ہے۔ شمالی آئر لینڈ کی گرین پارٹی کے سربراہ اسٹیون اگنیو کا کہنا ہے کہ پہلی مرتبہ عام لوگ یہ کہنا شروع ہو گئے ہیں کہ متحدہ آئرلینڈ کے حق میں ووٹ ڈالا جا سکتا ہے۔ اگنیو کے مطابق ایسی سوچ کبھی بھی سامنے نہیں آئی تھی۔

یہ امر اہم ہے کہ برسوں سے شمالی آئرلینڈ کی اکثریتی کیتھولک آبادی متحدہ آئرلینڈ کی حامی رہی ہے جبکہ پروٹسٹنٹ کمیونٹی برطانیہ کا حصہ رہنے کے حق رہی ہے۔ 18 برس قبل ایک امن معاہدے کے تحت شمالی آئرلینڈ میں امن قائم ہوا تھا۔ قوم پرستوں کا خیال ہے کہ یورپی یونین کا حصہ رہہ کر وہ خوشحال اور مستحکم رہ سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں شمالی آئرلینڈ کے نوجوان بھی پہلی مرتبہ اپنی یورپی شناخت کا نعرہ لگانے لگے ہیں۔ بہت سے نوجوانوں کو خدشات ہیں کہ بریگزٹ کے بعد وہ صرف برطانوی شہری بن کر رہ جائیں گے اور ان کی یورپی شناخت ختم ہو جائے گی۔

Flagge von Nordirland

شمالی آئرلینڈ کی عوام نے یورپی یونین کے حق میں ووٹ ڈالا تھا

شمالی آئرلینڈ میں بعض افراد کا یہ بھی کہنا ہے کہ بریگزٹ کے بعد اب علیحدہ آئرش پاسپورٹ ہی وہ واحد ذریعہ ہے کہ اُس کے بل بوتے پر یورپی یونین میں روزگار تلاش کیا جا سکے گا اور اسی باعث یورپی شہریت بھی حاصل رہے گی۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ آئرش پاسپورٹ کے حصول پر شمالی آئرلینڈ میں پروٹسٹنٹ یونینسٹ تنازعہ بھی کھڑا کر سکتے ہیں۔ کئی آئرش باشندوں کو تاہم خوف لاحق ہے کہ شمالی آئر لینڈ ایک مرتبہ پھر کیتھولک اور پروٹیسٹنٹس کے درمیان پرتشدد جھرپوں کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

شمالی آئر لینڈ کے کیتھولک قوم پرستوں اور پروٹسٹنٹ یونینسٹوں کے درمیان امن کی ڈیل اٹھارہ برس قبل طے پائی تھی اور اس معاہدے کے تحت ان حریفوں نے برطانیہ کا حصہ رہنے پر اتفاق کیا تھا۔ اب برطانیہ کے یورپی یونین چھوڑنے کے ریفرنڈم کے بعد شمالی آئرلینڈ کی عوام وہ سوچنے لگے ہیں جو کبھی اکثریتی آبادی کی اجتماعی فکر کا حصہ نہیں تھی یعنی جمہوریہ آئرلینڈ میں شمولیت۔

بریگزٹ کے حوالے سے یہ بات اہم ہے کہ اسکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ میں پچاس فیصد سے زائد عوام نے یورپی یونین میں رہنے کے حق میں ووٹ ڈالا تھا۔