بریگزٹ معاہدہ ترکی اور یوکرائن کے لیے ماڈل ہو سکتا ہے، جرمنی | حالات حاضرہ | DW | 26.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بریگزٹ معاہدہ ترکی اور یوکرائن کے لیے ماڈل ہو سکتا ہے، جرمنی

جرمن وزیر خارجہ کے مطابق ایک ’سمارٹ بریگزٹ ڈیل‘ غیر یورپی ممالک کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے رول ماڈل بن سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ قریبی تعلقات سے پہلے ترکی میں سیاسی صورتحال کا بہتر ہونا ضروری ہے۔

جرمن وزیر خارجہ زیگمار گابرئیل نے منگل کے روز تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی یونین اور برطانیہ کے مابین مستقبل میں ہونے والی بریگزٹ ڈیل  کو کئی دیگر غیر یورپی ممالک کے لیے بھی ماڈل کے طور پر لیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرائن اور ترکی کے ساتھ ’بریگزٹ ڈیل‘ کو بنیاد بناتے ہوئے تعلقات بہتر بنائے جا سکتے ہیں۔

ترکی کی مخالفت، جرمن چانسلر ’بے بس‘ ہو گئیں

جرمن وزیر خارجہ کا جرمنی کے ’فونکے میڈیا گروپ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’اگر ہم یورپی یونین سے اخراج کے بعد برطانیہ سے اچھے تعلقات قائم رکھنے کے لیے کامیاب معاہدہ کرتے ہیں تو اسے کئی دیگر ملکوں کے لیے بنیاد سمجھا جا سکتا ہے۔‘‘

برلن کے اس اعلیٰ سفارت کار کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں امید کہ یوکرائن یا ترکی مستقبل قریب میں یورپی یونین کا حصہ بن پائیں گے، ’’اسی وجہ سے ان کے ساتھ قریبی تعاون کے لیے متبادل طریقوں پر غور کرنا ضروری ہے۔‘‘

گابرئیل کا مزید کہنا تھا کہ اس طرح کی نئی پالیسی سے انقرہ حکومت کے ساتھ ’کسٹم یونین کے حوالے سے نئے اور قریبی تعلقات‘  پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ترکی کی حالیہ صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ابھی یورپی یونین میں شامل ہونے سے بہت دور ہے لیکن انقرہ حکومت نے ایسے اشارے دیے ہیں کہ وہ برسلز کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی خواہاں ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انقرہ حکومت نے برلن کے ساتھ بھی تعلقات میں بہتری کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

یورپی یونین سے تعلقات پر نظر ثانی ضروری، ترک صدر ایردوآن

وزیر خارجہ کا کہنا تھا، ’’یہ ایک اچھی علامت ہے کہ کئی گرفتار جرمنوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔ ابھی بھی جرمن اخبار ’دی ویلٹ‘ کا ایک ترک نژاد صحافی ترکی میں قید ہے، جس کے بارے میں گابرئیل کا کہنا تھا، ’’ترک جانتے ہیں کہ اس کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ ہمارے لیے کس قدر اہم ہے۔‘‘ اس صحافی کو فروری میں ایک دہشت گرد گروپ کے ساتھ رابطوں کے الزام کے تحت گرفتار کر لیا گیا تھا۔

کرسمس سے پہلے حیران کن طور پر ترکی نے ڈیوڈ برٹش نامی ایک جرمن کو رہا کر دیا تھا۔ وہ گزشتہ نو ماہ سے ترکی میں قید تھا۔ اس سے چند دن قبل جرمن صحافی ماسیلے تولو کو بھی استنبول کی جیل سے رہا کر دیا گیا تھا۔

DW.COM