1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بریگزٹ ’سائنس و تحقیق کا شعبہ ڈوب جائے گا‘

برطانیہ میں یورپی یونین سے ممکنہ اخراج کے نقصانات سے آگاہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ پہلے مختلف سیاستدانوں نے یہ کام کیا، پھر تاجروں اور سرمایہ کاروں نے ڈرایا اور اب سائنس دان بھی اس میدان میں اتر آئے ہیں۔

نوبل انعام حاصل کرنے والی تیرہ برطانوی شخصیات نے ایک کھلے خط میں یورپی یونین سے نکلنے کی صورت میں ہونے والی پیچیدگیوں سے خبردار کیا ہے۔ اس خط میں لکھا گیا ہے کہ اگر برطانیہ اس اتحاد سے نکل جاتا ہے تو اس سے سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے کو ملنے والی یورپی امداد بھی بند ہو جائے گی، جس سے اس شعبے کے لیے مشکلات کا ایک پہاڑ کھڑا ہو جائے گا۔ اس خط کے مطابق ایسا ہونے کی صورت میں اس میدان میں برطانیہ کے پچھے رہ جانے کا خدشہ ہے، ایسے میں مہارت تک رسائی محدود ہو جائے اور اس شعبے میں برطانیہ کا اثر رسوخ بھی کم ہو جائے گا۔

اخبار ڈیلی ٹیلی گراف میں شائع ہونے والے اس خط میں زور دے کر کہا گیا ہے کہ تحقیق کے لیے دی جانے والی یورپی امداد انتہائی ضروری ہے۔ ان شخصیات کے مطابق یہ خیال کرنا انتہائی بچگانہ ہے اور خود کو مطمئن کرنا ہے کہ لندن حکومت فوری طور پر فنڈز کو بحال کرنے میں کامیاب ہو جائے گی، ’’ ہم ایک جزیرہ ہو سکتے ہیں لیکن سائنس کے میدان میں ہم جزیرہ نہیں رہ سکتے۔ یورپی یونین میں شامل رہنا برطانیہ اور برطانیہ کے سائنس و تحقیق کے شعبے دونوں کے لیےسود مند ہے‘‘۔ خط لکھنے والوں میں ماہر طبیعات پیٹر ہگس اور بائیو کیمسٹری کے ماہر پاؤل نرس بھی شامل ہیں۔

برطانیہ میں 23 جون کو یورپی یونین میں رہنے یا نکلنے کے بارے میں ایک ریفرنڈم ہو رہا ہے۔ تازہ ترین جائزوں کے مطابق ابھی بھی برطانوی عوام اس موضوع پر تقسیم دکھائی دیتی ہے۔ نصف اس کے حق میں جبکہ نصف مخالف ہیں۔ اس سے قبل کئی سیاستدان،سابق فوجی افسران اور تاجر برداری عوام پر واضح کر چکی ہے کہ برطانیہ یورپی یونین میں رہ کر ہی زیادہ بااثر، زیادہ محفوظ اور زیادہ خوشحال و کامیاب ہو سکتا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارہ، اقتصادی تعاون و ترقی کی یورپی تنظیم اور بینک آف انگلینڈ بھی انخلاء کی صورت میں مالیاتی شعبے کو ہونے والے شدید نقصان سے خبردار کر چکے ہیں۔ برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج یا ’ بریگزٹ‘ کے حق میں سب سے زیادہ لندن کے سابق میئر بورس جانسن پیش پیش ہیں۔