1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بریگزٹ: برطانوی حکومت کے خلاف عدالت سے رجوع کا فیصلہ

قانونی مشاورت فراہم کرنے والی برطانیہ کی ایک بڑی کمپنی نے کہا ہے کہ اگر برطانوی حکومت پارلیمان سے مشورہ کیے بغیر ہی یورپی یونین سے علیحدگی کے لیے آرٹیکل 50 لاگو کرتی ہے تو وہ اُس کے خلاف عدالت میں جائے گی۔

لندن میں قائم مشکون ڈی رایا (Mishcon de Reya) نامی اس لاء فرم کے وکلاء کا کہنا ہے کہ برطانوی حکومت کو پہلے اس بات پر ملکی پارلیمان میں بحث اور ووٹنگ کرانی چاہیے کہ آیا آرٹیکل 50 کے تحت یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی کی کارروائی شروع کی جائے یا نہیں۔ لزبن ٹریٹی کے آرٹیکل 50 کے تحت اگر برطانوی حکومت یورپی یونین سے الگ ہونے کا عمل شروع کرتی ہے تو اس عمل کو مکمل ہونے کے لیے کم از کم دو برس کا عرصہ درکار ہو گا۔

مؤکلوں کے ایک گروپ کی طرف سے عمل کرتے ہوئے اس لاء فرم نے کہا ہے کہ اگر حکومت پارلیمان سے اجازت لیے بغیر یورپی یونین سے نکلنے کے عمل کا آغاز کرتی ہے تو وہ حکومت کے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرے گی۔

برطانیہ میں 23 جون کو ہونے والے عوامی ریفرنڈم میں عوام کی اکثریت نے فیصلہ دیا تھا کہ برطانیہ کو یورپی یونین سے الگ ہو جانا چاہیے۔ تاہم اس لاء فرم کا کہنا ہے کہ اس ریفرنڈم کے نتائج پر عملدرآمد قانونی طور پر لازمی نہیں ہے بلکہ یہ ’’برطانوی شہریوں کے خیالات جاننے کی ایک مشق‘‘ تھی۔

اسکاٹ لینڈ کی اکثریت نے یورپی یونین میں رہنے کے حق میں ہی ووٹ دیا تھا

اسکاٹ لینڈ کی اکثریت نے یورپی یونین میں رہنے کے حق میں ہی ووٹ دیا تھا

اس قانونی کمپنی کا کہنا ہے کہ برطانوی آئین کے مطابق یورپی یونین سے الگ ہونے کے لیے قانونی عمل کے آغاز کا فیصلہ اب لوگوں کے نمائندگان کے ہاتھوں میں ہے۔ مشکون ڈی رایا کے ایک وکیل کسرا نوروزی کے مطابق اگر آئینی طور پر درکار طریقہٴ کار کے مطابق پارلیمان سے مشاورت اور اجازت کے بغیر یورپی پونین سے الگ ہونے کے عمل کا آغاز کیا جاتا ہے تو یہ عمل غیر قانونی ہو گا۔

برطانیہ میں کتابی شکل میں تو ملکی آئین موجود نہیں ہے تاہم پارلیمانی اقدامات، عدالتی فیصلوں اور سزاؤں کی صورت میں ایک غیر مرتب شدہ آئین ضرور موجود ہے اور اسی باعث برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کے آئینی عمل کے بارے میں مزید سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔

23 دسمبر کے برطانوی ریفرنڈم کے بعد یورپی یونین کے رہنماؤں کا اصرار ہے کہ برطانوی حکومت آرٹیکل 50 کو لاگو کرنے کے لیے وقت ضائع نہ کرے کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ بے یقینی کی صورتحال اس یورپی بلاک کی معاشی مارکیٹوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بنی رہے گی۔

بریگزٹ کے خلا برطانوی دارالحکومت لندن میں بھی بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں

بریگزٹ کے خلا برطانوی دارالحکومت لندن میں بھی بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں

اگر برطانوی حکومت کی طرف سے یورپی یونین سے الگ ہونے کی کارروائی کے آغاز کو عدالت میں چیلنج کر دیا جاتا ہے تو اس سے یہ عمل مزید طوالت اختیار کر سکتا ہے اور نتیجتاﹰ بے یقینی کی صورتحال بھی۔ تاہم اگر عدالت اس کے خلاف فیصلہ دیتی ہے تو پھر برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کا فیصلہ معطل بھی ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف اسکاٹ لینڈ نے کہا ہے کہ اس کی پارلیمان بریگزٹ کا راستہ روکنے یا پھر برطانیہ سے الگ ہونے کے سوال پر ریفرنڈم کرا سکتی ہے تاکہ وہ آئندہ بھی یورپی یونین میں ہی شامل رہے۔ خیال رہے کہ اسکاٹ لینڈ کی اکثریت نے یورپی یونین میں رہنے کے حق میں ہی ووٹ دیا تھا۔