1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

برڈ فلو کی وبا کے انسانوں میں منتقل ہونے کا خطرہ موجود ہے

عالمی سطح پر برڈ فلو کی وبا کئی مرتبہ پرندوں میں پھیل چکی ہے۔ اس وبا کی وجہ سے لاکھوں پرندے تلف کیے جا چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق برڈ فلو کا وائرس انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے۔

برڈ فلُو کے وائرس کے پھیلاؤ سے یورپی، افریقی اور ایشیائی براعظموں میں کئی پولٹری فارمز میں مرغیوں کو تلف کیا جا چکا ہے اور اس عمل میں لاکھوں مرغیاں ہلاک کی گئیں۔ سردست ایسا دکھائی دیتا ہے کہ برڈ فلو کے وائرس کا انسانی بستوں پر حملہ آور ہونے کا خطرے قدرے کم ہے لیکن  اِس خطرے کی موجودگی سے ماہرین اور سائنس دان انکار نہیں کر رہے ہیں۔

سائنس دانوں کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ برڈ فلو کے وائرس کی مختلف قسمیں دنیا کے مختلف حصوں میں ایک ہی وقت میں پائی جاتی ہیں۔ یہ اقسام مختلف براعظموں میں موجود پولٹری فارمز میں پائی گئی ہیں۔ اس باعث یہ کہنا مشکل ہے کہ کون سا وائرس انسانوں کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ طبی ماہرین نے بتایا ہے کہ برڈ فلو کے مختلف وائرس آپس میں ملتے ہوئے تبدیلی کے عمل سے جہاں گزر رہے ہیں، وہاں اُن کی نئی قسمیں بھی جنم لے رہی ہیں۔ محققین کا خیال ہے کہ کوئی بھی نیا وائرس انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے۔

Niederlande Entenfarm Vogelgrippe Keulung (picture-alliance/dpa/R. de Waal)

برڈ فلو سے متاثرہ مرغیوں کو تلف کرنے کا عمل

امریکی ریاست مینیسوٹا کی یونیورسٹی کے متعدی بیماریوں کے ماہر محقق مائیکل اوسٹرہولم کہنا ہے کہ یہ انفلوئنزا کی قدرتی تاریخ میں رونما ہونے والی ایک اہم بنیادی تبدیلی ہے اور اپنی نوعیت کا حیران کن عمل بھی ہے، جس کی نظیر ماضی میں نہیں ملتی۔ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ برڈ فلو کا کوئی نیا وائرس پرندوں سے انسانی بستیوں میں منتقل ہوا تو اُس کو قابو کرنا مشکل ہو جائے گا۔

سن 1990 کی دہائی میں H5N1 وائرس کے پھیلاؤ کے بعد انفلوئنزا اور نزلے کی شدت کی وجہ سے ہزاروں ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اب اگر اس انداز کا متعدی مرض پھیلا تو ہلاکتوں کی تعداد سینکڑوں اور ہزاروں میں نہیں بلکہ اِس سے کہیں زیادہ ہو گی۔ برڈ فلو کی مختلف قسموں کے سامنے آنے کے بعد ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ کس وائرس کے خلاف مدافعتی ویکسین تیار کی جائے۔

ماضی میں برڈ فلُو کی دو یا تین اقسام تھیں لیکن اب پرندوں میں پھیلنے والے انفلوئنزا کی نصف درجن سے زائد قسمیں دریافت کی جا چکی ہیں۔ متعدی امراض کے ریسرچرز برڈ فلو کی نئی قسموں کے سامنے آنے پر حیران اور پریشان ہیں کہ یہ کتنی تیزی سے آگے تقسیم ہوتا جا رہا ہے اور اس میں مزاحمت بھی بتدریج بڑھتی جا رہی ہے۔