1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

برٹش پٹرولیم: اخراجات میں اضافہ ، ساکھ میں کمی

خلیج میکسیکو میں تیل کے باعث ہونے والی تباہی کے باعث برطانوی کمپنی برٹش پٹرولیم کے اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ ادارے کی ساکھ بھی طرح متاثر ہو رہی ہے۔ اس وقت بی پی کے شیئرز کی قیمت انتہائی نچلی سطح پر پہنچ گئی ہے۔

default

برٹش پیٹرولیم کے شیئرز گزشتہ چودہ سالوں کے دوران اپنی کم نچلی ترین سطح پر ہیں

’ڈیپ واٹر ہوریزن‘ نامی سمندری آئل پلیٹ فارم کو پیش آنے والے حادثے سے قبل BP کے منافع میں بیس فیصد کا اضافہ ہوا تھا جو تقریباً 16.6 ارب یورو بنتا تھا۔ تاہم سال رواں کی پہلی سہ ماہی میں یہ منافع کم ہو کر چھ ارب یورو رہ گیا۔

خلیج میکسیکو میں پیش آنے والے حادثے کے بعد اب برطانوی حکومت بھی برٹش پٹرولیم کے معاملات کا بغور جائزہ لے رہی ہے۔ اس سے قبل لندن حکومت کا موقف تھا کہ بی پی اس واقعے کی ذمہ دار ہے اوراِسے یہ مسئلہ خود ہی حل کرنا ہو گا۔ تاہم برٹش پٹرولیم کی متاثرہوتی ہوئی ساکھ اور گرتے ہوئے حصص نے انتظامیہ کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی۔ اس کے علاوہ واشنگٹن سے برطانیہ مخالف بیانات نے بھی اس میں اہم کردار ادا کیا۔

بہرحال اب یہ مسئلہ اس واقعے کی ذمہ داری ایک دوسرے پر عائد کرنے کی حد سے باہر نکل چکا ہے۔ کئی تاجروں نے بی پی میں مزید سرمایہ کاری کرنا یا تو روک دی ہے یا پھر اپنا سرمایہ واپس نکال لیا ہے۔

Ölpest USA Golf von Mexiko BP Obama

امریکی صدر باراک اوباما کے مطابق ہر طرح کے نقصانات کی تلافی کرنا بی پی کی ذمہ داری ہے

اس وجہ سے لندن اور نیو یارک کی اسٹاک مارکیٹوں میں برٹش پٹرولیم کے شیئرز کی قیمتوں میں زبردست کمی دیکھنے میں آئی اور بین الاقوامی منڈیوں میں اس تیل کمپنی کی ساکھ بھی بری طرح متاثر ہوئی۔ لندن میں سرمایہ کاری اُمور کے ایک ادارے سے وابستہ روبرٹ تالبوٹ کہتے ہیں کہ یہ مسئلہ اب بی پی کے مالی حالات تک ہی محدود نہیں رہا۔ ان کے بقول "حصص کی اتنی کم ہوتی قیمت کمپنی کے مستقبل کے لئے ٹھیک نہیں ہے۔"

ایک طویل عرصے تک برٹش پٹرولیم کو زبردست فائدہ ہوا ہے۔ عام حالات میں کمپنی کے لئے مالی تلافی کے ضمن میں 25 سے 30 ارب ڈالر یا پاؤنڈ ادا کرنا کوئی مسئلہ نہ ہوتا۔ تاہم امریکی صدر باراک اوباما کے مطابق بی پی کو نہ صرف سمندر میں بہنے والے تیل کو روکنے اوراس وجہ سے ماحولیاتی نقصانات کے ازالے پراٹھنے والے اخراجات خود ادا کرنا ہوں گے بلکہ اس حادثے سے کسی بھی طور متاثر ہونے والوں کو مالی معاوضہ بھی ادا کرنا ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کو امریکی صدر پر واضح کرنا چاہیے کہ بی پی کے معاملےکو مزید نہ بڑھائیں۔ اس دوران یہ افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ شیئرز کا کاروبار کرنے والے امریکی تاجر بی پی کی امریکی شاخ کو خریدنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: مقبول ملک

DW.COM