1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

برٹش اوپن سکواش: پاکستان کی خالی ہاتھ واپسی

برٹش اوپن جونیئر سکواش چیمپئنشپ میں پاکستانی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کے باعث اسے برطانیہ سے خالی ہاتھ وطن واپس لوٹنا پڑا۔

default

سابق عالمی چیمپئن اور سکواش کے شہرہ آفاق پاکستانی کھلاڑی جہانگیر خان نے قومی سکواش فیڈریشن کو اس شکست کے لئے ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے عہدیداروں کے احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔

برطانیہ کے شہرشیفلڈ میں حال ہی میں ختم ہونے والی برٹش اوپن جونیئر سکواش چمپئنشپ میں پاکستان کی سات رکنی ٹیم میں شامل دانش اطلس خان ہی وہ واحد کھلاڑی تھے جنہوں نے انڈر17کٹیگری کے فائنل تک رسائی حاصل کی، جہاں انہیں مصر کے امر خالد خلیفہ کے ہاتھوں 11-3،11-5اور14-12 کے سکور سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

دیگر پاکستانی کھلاڑیوں میں وقار محبوب اور محمد شعیب حسن انڈر19، علی بخاری اور بلال ذاکر انڈر 15جبکہ ناصر اقبال انڈر17ایونٹ کے کوارٹر فائنل میں ہمت ہار گئے۔

پاکستانی ٹیم میں شامل واحد خاتون کھلاڑی ماریہ طور بھی بھارت کی دیپکا پلےکال سے ہار کر انڈر19مقابلوں کے تیسرے ہی مرحلے سے باہر ہو گئیں۔

Speedminton Spieler

اس صورتحا ل کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے ریکارڈ دس مرتبہ برٹش اوپن جیتنے والے جہانگیر خان نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ سکواش فیڈریشن میں کام کرنے والے ’’غیر پیشہ ورانہ عہدیداروں‘‘ کی وجہ سے پاکستان کو یہ دن دیکھنا پڑا ہے۔ خان نے کہا کہ 2005ء تک پاکستان برٹش اوپن جو نیئر میں ہر کٹیگری کا چمپئن تھا مگر اسکے بعد ’’فیڈریشن کی سیاست اور کام نہ کرنے کی روش کے باعث آج ہمارے پاس کوئی ٹائٹل نہیں۔‘‘

چند برس پہلے تک سکواش کا کھیل دُنیا بھر میں پاکستان کی پہچان سمجھا جاتا تھا۔ روشن خان سے جان شیر خان کی 2001ء میں ریٹائرمنٹ تک پاکستان نے سکواش کے افق پر بلا شرکت غیرحکمرانی کی۔

جہانگیر خان نے بتا یا کہ انیس سو ستر کے عشرے سے پاکستان میں سکواش فیڈریشن کی باگ ڈور پاک فضائیہ کے پاس ہے مگرماضی میں بھی جتنے چمپئن پیدا ہوئے اس میں بھی فیڈریشن کا کوئی کردار نہ تھا، بلکہ کھلاڑیوں نے اپنی محنت اور والدین کی مدد سے اعلیٰ مقام حاصل کیا تھا۔

واضح رہے کہ پاک فضائیہ(پاکستان ائیرفورس) کا سربراہ پاکستان سکواش فیڈریشن کا بھی صدرہوتا ہے۔ اس حوالے سے جہانگیر خان نے کہا کہ پاک فضائیہ کے افراد کی اپنے شعبے میں مکمل پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر تو کسی کو شک نہیں مگر ’’سکواش جیسے کھیل کو چلانا ان کے بس کی بات نہیں۔‘‘

مسلسل 5 برس تک ناقابل شکست رہ کرلا تعدادعالمی ریکارڈ عبورکرنے والے جہا نگیر خان کا کہنا تھا:’’یہاں کوچز تک کی تقرری بھی سفارش پر کی جاتی ہے۔‘‘

جہانگیر خان کوسکواش میں عالمی نمبرایک کے درجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار نبھانے والے کوچ رحمت خان بھی پاکستان سکواش فیڈریشن کے رویے سے دلبرداشتہ ہو کر بیرون ملک جا چکے ہیں۔ جبکہ اس وقت جونئیر، سینئرز اور خواتین کھلاڑیوں کے لئے فیڈریشن کو فہیم گل کی صورت میں صرف ایک ہی کوچ کی خدمات حاصل ہیں۔

جہانگیر خان نے مزید بتایا کہ گزشتہ گیارہ برس سے پاکستان کو ناکامیوں کا سامنا ہے مگر سکواش فیڈریشن کا کبھی احتساب نہیں کیا گیا۔ ’’جب ایک کھیل کو لاوارثوں کی طرح چھوڑ دیا جائے گا تو اسکا یہی حشر ہو گا، جو آج ہمارے سامنے ہے۔‘‘

سابق کھلاڑی نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ سکواش کی طرف توجہ دے کیونکہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو دوردور تک بہتری کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا ہے۔

دریں اثناء برٹش اوپن جونیئر سکواش میں مصر نے آٹھ میں سے چھ ٹائٹل جیتے اور ٹاپ سیڈ محمد الشو رباگی نے فائنل میں ملائشیا کے یوان یون کو ہرا کر اپنے اعزاز کا کامیابی کے ساتھ دفاع کیا۔