1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بريگزٹ مذاکرات کے ليے لوگوں کو استعمال نہ کيا جائے، ليبر پارٹی

برطانيہ کے ہاؤس آف لارڈز نے حکومتی توقع کے برعکس يورپی يونين سے باقاعدہ اخراج کے بعد یونین کے شہريوں کے ليے برطانيہ ميں رہائش کے حق پر زور دیا ہے۔ يورپی يونين کے حامی سياست دانوں نے اسے ايک مثبت پيش رفت قرار ديا ہے۔

’بريگزٹ‘ يا برطانيہ کے يورپی يونين سے اخراج کے ليے حکومت کو بات چيت شروع کرنے کا اختيار دينے کے حوالے سے بل ميں ايک شق متعارف کرائی گئی ہے۔ پارليمان کے ايوان بالا ميں بدھ يکم مارچ کے روز ہونے والی رائے شماری ميں 358 ارکان ميں سے 246 نے يورپی يونين کے شہريوں کے ليے برطانيہ ميں قيام کی قانونی حيثيت کے تحفظ کے ليے اس کی منظوری دی۔ بريگزٹ سے متعلق امور کے ليے ليبر پارٹی کی ترجمان ڈائين ہيٹر کے بقول برطانيہ ميں رہائش پذير يورپی يونين کے رکن ممالک کے شہريوں کو فوری طور پر اپنے حقوق کا علم ہونا چاہيے، نہ کہ ايک یا دو برس بعد انہيں پتہ چلے کہ ان کے حقوق کيا ہيں۔ ان کا مزيد کہنا تھا، ’’لوگوں کے مستقبل کے ساتھ سودے بازی نہيں کی جا سکتی۔ يہ مذاکرات کے ليے استعمال ميں لائی جانے والی کسی چيز سے کہيں زيادہ اہم ہيں۔‘‘

اٹھائيس رکنی يورپی يونين سے باقاعدہ اخراج کے ساتھ برطانيہ بلاک کے رکن ممالک کے شہريوں کی رہائش و کام کاج کے ليے آزادانہ نقل و حرکت سے متعلق پاليسی سے بھی خارج ہو جائے گا۔ نتيجتاً يورپی يونين کے قريب تين ملين شہری، جو اس وقت برطانيہ ميں مقيم ہيں اور اسی طرح برطانيہ کے لگ بھگ ايک ملين باشندے جو مختلف يورپی رياستوں ميں رہ رہے ہيں، ان سب کو غير يقينی صورت حال کا سامنا ہے۔ لندن حکومت کئی مرتبہ يہ کہہ چکی ہے کہ ملک ميں ملازمتيں کرنے والے يورپی باشندوں کے حقوق کا خيال رکھا جائے گا بشرط يہ کہ يورپی ملکوں ميں کام کرنے والے برطانوی شہريوں کے تحفظ کو بھی يقينی بنايا جائے۔ ناقدين کا ماننا ہے کہ اس معاملے ميں حکومت لوگوں کو مذاکراتی عمل کے ليے استعمال کر رہی ہے۔

يورپی يونين نواز حلقوں ميں اس پيش رفت کو مثبت انداز سے ديکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ يہ ايک الگ بات ہے کہ حکومت ہاؤس آف لارڈز کی اس ترميم پر عملدرآمد کی پابند نہيں۔ بل ميں ترميم کو منظوری کے ليے ايوان زيريں يا ہاؤس آف کامنز ميں پيش کيا جانا ہے، جہاں قوی امکانات ہيں کہ اسے مسترد کيا جا سکتا ہے۔ وزير اعظم ٹيريزا مے کی قدامت پسند جماعت وہاں اکثريت کی حامل ہے۔ لندن حکومت نے اس پيش رفت پر مايوسی کا اظہار کيا ہے۔ يہ امکان بھی ہے کہ اسی ماہ اس ترميم کو مسترد کيا جا سکتا ہے۔