1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برمنگھم میں تہرے قتل کے الزام میں، دو ملزموں کی عدالت میں پیشی

برطانیہ میں گزشتہ دنوں ہونے والی ہنگامہ آرائی کے دوران گرفتار کیے گئے دو افراد کو آج عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ان پر برمنگھم میں تین افراد کو قتل کرنے کا الزام ہے۔

default

برطانیہ میں گزشتہ دونوں ہونے والے ہنگاموں کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ قتل کے الزام میں گرفتار شدگان کو عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ پولیس کے مطابق ان دونوں نے اپنی املاک کی حفاظت کرنے والے تین افراد کوگاڑی سے ٹکر مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ بیس سالہ ہارون جہاں، تیس سالہ شہزاد علی اور اکتیس سالہ عبدل مصاویر ہنگامہ آرائی اور جلاؤ گھیراؤ کے دوران وہاں اپنی املاک کی حفاظت کے لیےکھڑے ہوئے تھے کہ ملزمان نے انہیں گاڑی سے ٹکر مار دی تھی۔

چھبیس سالہ ملزم جوشو ڈونلڈ کا تعلق برمنگھم کے ایک قریبی علاقے لیڈی وڈ سے ہے جبکہ سولہ سالہ دوسرا ملزم مونس گرین نامی علاقے کا رہائشی ہے۔ پولیس نے 18 سال سے کم ہونےکی وجہ سے اس نوجوان کا نام نہیں بتایا۔ ان دونوں ملزمان کو مقامی وقت کے مطابق صبح نو بجے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

Unruhen in Großbritannien Birmingham England

برطانیہ میں بد امنی کے دوران صرف برمنگھم میں 500 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا

پولیس نے مزید بتایا کہ دوران تفتیش انہوں نے دوگاڑیاں برآمد کی ہیں اور ساتھ ہی متعدد افراد کے بیان قلمبند کیے ہیں۔ اس دوران ہارون جہاں کے والد طارق جہاں نےکسی قسم کا بدلہ نہ لینے کا اعلان کیا ہے، جسے مختلف حلقوں میں سراہا جا رہا ہے۔ سرکاری حکام نے کہا ہے کہ اس بیان کے بعد برمنگھم میں آباد مختلف قوموں کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

برطانیہ میں بد امنی کے دوران صرف برمنگھم میں 500 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ اس دوران کل پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ مزید دو افرد کے قتل میں ملوث ہونے کے شبے میں پولیس نے ایک 26 سالہ اور ایک 22 سالہ نوجوان کو حراست میں لے رکھا ہے۔

رپورٹ : عدنان اسحاق

ادارت : شادی خان سیف

DW.COM