1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

برما کے قدیم سنہری خط کے مندرجات عام

محققین کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے اٹھارہویں صدی کے لکھے ہوئے خط کے مخفی مندرجات کے اسرار کو کھول دیا ہے۔ یہ خط قدیمی برمی بادشاہ نے تاج برطانیہ کو لکھا تھا۔

default

برما کے روبی منفرد ہیں

سابقہ برمی شاہی حکمران کی جانب سے لکھا گیا یہ خط تاریخ میں گولڈن لیٹر کے نام سے مشہور ہے۔ یہ خط خالص سونے کی ایک شیٹ پر لکھا گیا تھا۔ اس کی زیبائش میں قیمتی پتھر لعل یا روبی کا استعمال کیا گیا تھا۔ یہ خط اٹھارہویں صدی میں برما کے بادشاہ Alaungphaya کی جانب سے انگلستان کے شاہ جورج ثانی کو تحریر کیا گیا تھا۔ اس کا سن تحریر 1756 عیسوی ہے۔

BdT Deutschland Leibnizbriefe sind UNESCO-Weltkulturerbe

گوٹفریڈ ولہیلم لائبنس کی لکھی تحریر

یہ خط جرمنی کے شہر ہینوور کی لائبنس لائبریری کے محفوظ صندوق میں ڈھائی سو سالوں سے سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔ اس کے مخفی مندرجات برسوں سے محققین کے لئے ایک چیلنج تھے۔ اس خط کے مندرجات کو بند حروف کی گتھیوں سے باہر کرنے کا اعلان لائبنس لائبریری کے چیف گیورگ رُپیلٹ نے کیا۔

محققین کے مطابق سابقہ برما اور موجودہ میانمار کے بادشاہ Alaungphaya نے شاہ برطانیہ کو تجویز کیا تھا کہ تجارتی معاملات میں تعاون کو وسعت دینا دونوں ملکوں کے لئے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ خط کے حروف ایک سونے کی شیٹ پر لکھے گئے تھے۔ سونے کی شیٹ تقریباً پونے دوفٹ لمبی اور پونے پانچ انچ چوڑی ہے۔ اس پر دو درجن قیمتی پتھر لعل یا روبی نصب تھے۔ برطانوی بادشاہ نے خط کو وصول کرنے کے بعد اس کو شاہی لائبریری کے حوالےکردیا تھا۔ اس وقت یہ لائبریری شمالی جرمنی کے شہر ہینوور میں قائم تھی۔ ہینوور انگریز بادشاہ جارج دوم کا گھر بھی تھا۔

اس خط کو اس وقت شدید نقصان پہنچا تھا جب ڈنمارک کے بادشاہ کرسٹیان ششم نے 1768 ء میں فوج کشی کے دوران اس کو کھوکھلے کئے ہوئے ہاتھی دانت کے اندر رکھ دیا تھا۔ اس طرح سونے کی شیٹ کو رول کرنے کے باعث اس کے حروف کو سمجھنے میں مزید پیچیدگیاں اور دشواریاں پیدا ہو گئیں تھیں۔

Gottfried Wilhelm Leibniz

گوٹفریڈ ولہیلم لائبنس

اس تاریخی دستاویز کے مخفی معنوں کو سمجھنے کے لئے محققین کی ٹیم کے سربراہ لکسمبرگ کے مؤرخ Jacques Leider تھے۔ ژاک لیڈر برما اور اس سے وابستہ مختلف موضوعات کے بین الاقومی شہرت رکھنے والے ماہر ہیں۔

اس خط پر حتمی نظرثانی کا عمل ابھی بھی جاری ہے۔ لائبریری کے چیف کا مزید کہنا ہے کہ برمی بادشاہ کے خط کی تفصیلات اگلے سال ایک اہم کانگریس میں عام کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ یہ خط واپس 18 جنوری کو لائبریری کے حوالے کر دیا جائے گا۔ اسی لائبریری میں اٹھارہویں صدی کے ریاضی دان اور فلسفی گوٹفریڈ ولہیلم لائبنس (Gottfried Wilhelm Leibniz)کے خطوط اور ذاتی استعمال کی اشیا بھی محفوظ رکھی گئی ہیں۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس