1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برما: پارلیمانی انتخابات اور عالمی ردعمل

فوجی حکومت کی نگرانی میں بیس سال بعد ہونے والے میانمار یا برما کے پارلیمانی انتخابات کو عالمی طاقتوں نے قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے۔ مغربی قوتوں کے نزدیک یہ الیکشن کسی طور شفاف نہیں قرار دئے جا سکتے۔

default

الیکشن میں ایک ووٹر ووٹ ڈالتے ہوئے

میانمار یا سابقہ برما میں سن 1990 کے بعد ہونے والے الیکشن کے موقع پر سکیورٹی انتہائی سخت تھی۔ سرکاری میڈیا پر جاری ہونے والے نتائج میں الیکشن میں شریک دو حکومت کی پسندیدہ جماعتوں میں سے ایک Union Solidarity and Development Party (USDP)کی کامیابی کا اشارہ دیا گیا ہے۔ الیکشن کے حتمی نتائج کا اعلان پیر یا منگل کو ممکن دکھائی دیتا ہے۔ ایک یونین سالیڈیرٹی اینڈ اور دوسری ڈیویلپمنٹ پارٹی سپریم فوج سربراہ تھان شوے کی زوردار حامی ہے۔ اس نے تقریباً تمام سیٹوں پر امیدوار کھڑے کر رکھے ہیں۔

Dossierbild 3 Myanmar Wahlen

ینگون میں سوچی کی پارٹی کا دفتر

میڈیا رپورٹس کے مطابق میانمار کے سب سے بڑے شہر ینگون (رنگون) میں عوام کی بڑی تعداد نے ووٹنگ میں شرکت کے بجائے پگوڈا جا کر عبادتی عمل کو ترجیح دی۔ بیس سال قبل ہونے والے انتخابات میں نظربند لیڈر سوچی کی پارٹی نے بڑی کامیابی حاصل کی تھی لیکن ان کو فوج نے حکومت سازی کا حق نہیں دیا تھا۔

اتوار کو جنوب مشرقی ایشیائی ملک میانمار یا سابقہ برما میں بیس سالوں کے بعد انتخابات کا انعقاد مکمل ہو گیا ہے۔ اس الیکشن کے لئے فوجی حکومت نے پارٹیوں کی رجسٹریشن کو لازمی قرار دیا اور مقید نوبل انعام یافتہ لیڈر آؤنگ سان سوچی کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی نے اس حکومتی فیصلے کو ماننے سے انکار کردیا اور اس طرح ان کی جماعت کو تحلیل کردیا گیا۔ اتوار کے انتخابات میں ان کی شمولیت بہت اہمیت کی حامل ہوتی اور ان کے بغیر ان الیکشن کو عالمی طاقتوں نے بدعنوانی سے بھرا ہوا اور غیر شفاف قرار دے دیا ہے۔

بھارت کے دورے پر گئے ہوئے امریکی صدر اوباما نے اصل میں مغربی

Dossier Teil 3 Wahlen in Myanmar Birma Burma 2010

الیکشن میں شریک ایک پارٹی کا بینر

حکومتوں کے ردعمل کو ایک بنیاد فراہم کی۔ ان کا کہنا تھا کہ میانمار میں جو ہو رہا ہے اس کو الیکشن کا نام دے سکتے ہیں لیکن اس عمل میں آزادی اور شفافیت موجود نہیں ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ برسوں سے برمی قوم کو اپنے مستقبل کا تعین کرنے سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ اتوار کے الیکشن میں برما کی قدآور سیاسی شخصیت کو نظر بند رکھا گیا اور فوجی حکومت کی حامی اور پسندیدہ جماعتوں نے بڑھ چڑھ کر انتخابی عمل میں حصہ لیا۔

یورپی یونین کی خارجہ امور کی چیف کیتھرین ایشٹن نے بھی ان اس انتخابی عمل کو مسترد کردیا ہے۔ اپنے بیان میں ایشٹن نے ایک بار پھر گرفتار سیاسی کارکنوں اور لیڈروں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس الیکشن کے کئی پہلو بین الاقوامی معیارات کے مساوی نہیں تھے اور حکومتی جانبداری کا عنصر واضح طور پر نمایاں تھا۔ برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ کی جانب سے بھی انتخابی عمل کو رد کرنے کا بیان سامنے آیا ہے۔ ہیگ کے مطابق انتخابات کا نتیجہ ووٹنگ سے قبل ہی مرتب ہو چکا ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ غیر شفاف الیکشن کسی طور سماجی و سیاسی ترقی کا آئنہ دار نہیں ہوتے۔

فرانسی وزیر خارجہ برنارڈ کوشنر نے بھی انتخابات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس الیکشن میں اپوزیشن جماعتوں بشمول نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی اور دوسری نسلی اقلیتوں کے حقوق کا احترام نہیں کیا گیا ہے۔ فرانسیسی وزیر خارجہ نے برمی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں اور اقلیتوں کے ساتھ بامقصد مذاکراتی عمل کو شروع کر کے ملک کے اندر مثبت سیاسی عمل کو یقینی بنائے۔

نیشنل لیگ برائے ڈیموکریسی نے عوام کو انتخابی عمل کا بائیکاٹ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ مقید لیڈر سوچی کی نظر بندی کی مدت تیرہ نومبر کو ختم ہو رہی ہے۔ اس کا تعین نہیں ہو سکا کہ وہ رہا کردی جائیں گی یا نہیں۔

رپورٹ: عابد حسین ⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس