1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برلن کے قریب غیر ملکی مہاجرین کی مجوزہ رہائش گاہ نذر آتش

جرمن دارالحکومت برلن کے نواح میں ناؤاَین کے مقام پر غیر ملکی مہاجرین اور پناہ گزینوں کے لیے تیار کی گئی ایک مجوزہ رہائش گاہ کو پیر اور منگل کی درمیانی رات نامعلوم افراد نے آگ لگا دی۔

برلن سے منگل پچیس اگست کے روز موصولہ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق یہ واقعہ وفاقی دارالحکومت سے قریب بیس کلومیٹر شمال مغرب کی طرف ناؤاَین (Nauen) کے مقام پر ایک سپورٹس ہال میں پیش آیا۔ اس ہال کو مقامی انتظامیہ نے معمولی تبدیلیوں کے بعد ایک ایسی رہائش گاہ کی شکل دے دی تھی، جہاں ستمبر کے مہینے سے جرمنی میں سیاسی پناہ کی درخواست دینے والے 130 غیر ملکیوں کو رکھا جانا تھا۔

DW.COM

پولیس نے بتایا ہے کہ اس حملے میں کوئی شخص ہلاک یا زخمی نہیں ہوا البتہ مہاجرین کا یہ مجوزہ ہوسٹل پوری طرح تباہ ہو گیا۔ حکام کے مطابق اس بات کا قوی امکان ہے کہ اس عمارت کو آگ دانستہ طور پر لگائی گئی، جو اس سابقہ سپورٹس ہال کے خالی ہونے کے باوجود دیکھتے ہی دیکھتے پھیل گئی اور یہ عمارت پوری طرح تباہ ہو گئی۔

اے ایف پی کے مطابق چھوٹا سا جرمن شہر ناؤاَین جس وفاقی صوبے میں واقع ہے، اس کا نام برانڈن برگ ہے اور صوبائی حکام نے واضح طور پر کہا ہے کہ، جیسا کہ عمومی شبہ بھی ہے، اگر یہ ثابت ہو گیا کہ اس آتش زنی کا مقصد سیاسی پناہ کے متلاشی غیر ملکیوں کو نشانہ بنانا تھا، تو اس جرم کے مرتکب مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

اس واقعے کے بعد وفاقی ریاست برانڈن برگ کے وزیر اعلیٰ ڈیٹمار ووئڈکے نے کہا، ’’اگر چھان بین کے نتیجے میں یہ ثابت ہو گیا کہ یہ آتش زنی غیر ملکیوں کے لیے ناپسندیدگی اور اجانب دشمنی کا نتیجہ تھی، تو صوبائی پولیس اور محکمہ انصاف اس واقعے کے ذمہ داران کو ہر قیمت پر قانون کے کٹہرے میں لائیں گے۔‘‘

صوبائی سربراہ حکومت ڈیٹمار ووئڈکے نے مزید کہا، ’’مردم بیزاری اور اجانب دشمنی کو ان کی کسی بھی شکل میں قطعاﹰ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ بات چاہے غیر ملکیوں کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی ہو، ہائیڈے ناؤ کے شہر میں ضرورت مند انسانوں پر کیے جانے والے حملے کی یا پھر ناؤاَین میں غیر ملکی مہاجرین کی ان کی رہائش گاہ میں مجوزہ آمد کو طاقت کے ذریعے روکنے کی کوشش کی، یہ سب ایسی شرمناک حرکتیں ہیں، جو جرمنی کی ساکھ اور وقار کے منافی ہیں۔‘‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ جرمنی میں جمہوری اور کھلے پن کی سوچ کے حامل تمام شہریوں کو ایسی مردم بیزاری کی مذمت کرتے ہوئے خود کو ایسی ناپسندیدہ کارروائیاں کرنے والے اجانب دشمن بلوائیوں سے دور کر لینا چاہیے۔

جرمنی ہی میں گزشتہ ویک اینڈ پر مشرقی شہر ڈریسڈن کے قریب ہائیڈے ناؤ کے قصبے میں غیر ملکی مہاجرین کے ایک نئے مرکز کے افتتاح کے خلاف جو پرتشدد مظاہرے دیکھنے میں آئے تھے، ان کی مذمت کرتے ہوئے اور جرمن معاشرے کے کھلے پن کی سوچ کا عملی اظہار کرتے ہوئے وفاقی چانسلر انگیلا میرکل کل بدھ کے روز ہائیڈے ناؤ جائیں گی۔

Deutschland Brand in einer Turnhalle in Nauen

پولیس نے بتایا ہے کہ اس حملے میں کوئی شخص ہلاک یا زخمی نہیں ہوا

اس حوالے سے چانسلر میرکل نے کل پیر کے روز کہا تھا، ’’ان نئے نازیوں اور ان خاندانوں کے لیے، جو اپنے بچوں کے ساتھ ایسے مظاہروں میں شرکت کرتے ہیں، یہ بڑے شرم کی بات ہے کہ انہوں نے تارکین وطن کے خلاف مظاہروں کی سوچ اپنا رکھی ہے۔‘‘

جرمنی میں غیر ملکی تارکین وطن اور ان کی رہائش گاہوں پر حملوں کی جو حالیہ لہر دیکھنے میں آ رہی ہے، اس پر حکام شدید تشویش کا شکار ہیں۔ مختلف وفاقی محکموں کے اندازوں کے مطابق اس سال مختلف ملکوں سے سیاسی پناہ کی تلاش میں جرمنی آنے والے غیر ملکیوں کی مجموعی تعداد آٹھ لاکھ تک ہو جانے کا امکان ہے، جو ایک نیا ریکارڈ ہو گا۔