1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برلن کی صوبائی اسمبلی کے انتخابات: میرکل پر بڑھتا دباؤ

برلن کی صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں جرمن چانسلر میرکل کی قدامت پسند جماعت سی ڈی یُو (کرسچین ڈیموکریٹک یونین) کو زبردست نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اس طرح آئندہ برس مجوزہ عام انتخابات کے حوالے سے میرکل پر دباؤ اور بڑھ گیا ہے۔

Berlin Wahlen zum Abgeordnetenhaus erste Wahlergebnisse Anhänger CDU

برلن میں سی ڈی یُو کو انتخابات میں بھاری نقصان کا پتہ چلنے پر اس جماعت کے ارکان کے چہروں پر مایوسی جھلک رہی ہے

کہاں تو 2011ء میں جرمن صوبے (سٹی اسٹیٹ) برلن کی علاقائی پارلیمان کے لیے ہونے والے انتخابات میں سی ڈی یُو کو 23.3 فیصد ووٹ ملے تھے اور کہاں اتوار کو منعقدہ تازہ انتخابات میں یہ شرح کم ہو کر 17.6 فیصد تک آ گئی۔ اس جماعت کو ان انتخابات میں اس سے پہلے کبھی بھی اتنے کم ووٹ نہیں ملے تھے۔

چانسلر انگیلا میرکل پر دباؤ بڑھنے کی بڑی وجہ ان انتخابات میں مہاجرین اور غیر ملکیوں کی مخالف جماعت آلٹرنیٹیو فار جرمنی (AfD) کی بڑھتی مقبولیت ہے، جس نے مجموعی طور پر 14.2 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں۔ اس کامیابی کی وجہ مہاجرین کا وہ بحران ہے، جو جرمنی کے کئی عوامی حلقوں میں کشیدگی کا باعث بن رہا ہے۔

جرمن دارالحکومت برلن اپنے 3.5 ملین نفوس کے ساتھ جرمنی کا سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہے۔ اس جرمن صوبے میں گزشتہ پندرہ برسوں سے بائیں بازو کی اعتدال پسند جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی ایس پی ڈی کی حکومت رہی ہے۔ اگرچہ ان انتخابات میں اس جماعت کو بھی اس سٹی اسٹیٹ میں اپنی تاریخ میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے تاہم یہ جماعت 21.6 فیصد ووٹ حاصل کرتے ہوئے بہرحال پہلے نمبر پر آئی ہے۔

برلن کے سوشل ڈیموکریٹ میئر مشائیل مُلّر نے اپنے حامیوں کی تالیوں کی گونج میں کہا، ’ہم نے اپنا مقصد حاصل کر لیا ہے ا ور عوام نے ہمیں یہاں حکومت بنانے کا مینڈیٹ دیا ہے‘۔

ان انتخابات میں اے ایف ڈی کی کامیابی کا یہ مطلب بھی ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں سے برلن میں ایس پی ڈی اور سی ڈی یُو کی جو مخلوط حکومت قائم تھی، وہ پارلیمانی اکثریت سے محروم ہو گئی ہے۔ اب مُلّر کو مخلوط حکومت تشکیل دینے کے لیے ایک نہیں بلکہ دو مزید جماعتوں کی ضرورت پڑے گی۔

Berlin Wahlen zum Abgeordnetenhaus erste Wahlergebnisse AfD

مہاجرین اور غیر ملکیوں کی مخالف جماعت آلٹرنیٹیو فار جرمنی (AfD) کے قائدین اور اُن کے حامی اپنی تاریخی کامیابی پر جشن منا رہے ہیں

اس بات کا امکان زیادہ ہے کہ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی ماحول پسند جماعت گرینز اور انتہائی بائیں بازو کی جماعت دی لِنکے کے ساتھ مل کر حکومت بنائے گی، جنہوں نے بالترتیب 15.2 اور 15.6 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں۔ میئر مُلّر کے مطابق وہ اے ایف ڈی کے سوا تمام جماعتوں کے ساتھ بات چیت کریں گے۔ سرِدست کوئی بھی جماعت اے ایف ڈی کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کے لیے ہرگز تیار نہیں ہے۔

اس شہری ریاست میں پانچ سال پہلے کے گزشتہ انتخابات میں محض 1.8 فیصد ووٹ حاصل کرنے والی جماعت فری ڈیموکریٹک پارٹی اس بار زیادہ خوش قسمت ثابت ہوئی اور 6.7 فیصد ووٹوں کے ساتھ پانچ فیصد کی مطلوبہ حد کو پار کرتے ہوئے پارلیمان تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی۔