برلن کی صدیوں پرانی یادگاروں پر سے پردہ اٹھاتی انوکھی نمائش | فن و ثقافت | DW | 28.04.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

برلن کی صدیوں پرانی یادگاروں پر سے پردہ اٹھاتی انوکھی نمائش

برلن میں ایک نمائش صدیوں پرانی یادگاروں پر سے پردہ اٹھا رہی ہے، ایسی یادگاریں، جن کے اندر وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں لائی گئیں، نقصان پہنچایا گیا، ڈپوؤں میں بند کر دیا گیا اور جنہیں اس سے پہلے شاید ہی کسی نے دیکھا ہو گا۔

Ausstellung Enthüllt. Berlin und seine Denkmäler

یہ یادگار پہلی عالمی جنگ میں جان قربان کرنے والے فوجیوں اور فوج کے لیے ریل کی پٹڑی بچھانے کے دوران مرنے والے مزدوروں کی یاد میں تعمیر کی گئی تھی

ایسا تو پیرس، لندن یا نیویارک میں بھی پہلے کبھی نہیں ہوا کہ ایسی یادگاروں کو عوام کے سامنے لایا جائے، جن کے دروازے مختلف وجوہات کی بناء پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے عوام پر بند کر دیے گئے ہوں۔ یہ نمائش جرمن دارالحکومت کی ایک قلعہ نما عمارت ’سِٹاڈیلے‘ میں قائم عجائب گھر میں دکھائی جا رہی ہے۔ اس میوزیم کی خاتون انچارج آندریا تھیسن کے مطابق یہ برلن کی وہ سیاسی یادگاریں ہیں، جو اٹھارویں صدی سے لے کر دورِ حاضر تک کی تاریخ کے مختلف اَدوار کی شاہد ہیں۔

اب تک یہ تمام یادگاریں یا تو مختلف ڈپوؤں میں بند پڑی تھیں یا پھر زمین میں بہت یادہ گہرائی میں دفن تھیں۔ اس نمائش کے اہتمام کے دوران تحقیقی معاونت فراہم کرنے والے ٹوپوگرافی آف ٹیرر فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر آندریاز ناخاما کہتے ہیں کہ ان میں سے ہر یادگار اپنی جگہ پر ایک سیاسی بیان بھی ہے۔ اس نمائش سے اندازہ ہوتا ہے کہ سیاسی اہمیت کی حامل یادگاریں کیسے جرمن عوام کو مشکل میں ڈال دیتی ہیں اور وہ الجھن میں پڑ جاتے ہیں کہ وہ اُن کی جانب مثبت رویہ اختیار کریں یا منفی۔

یہ یادگاریں جرمنی کی سیاسی تاریخ بھی ہیں، پرشیا کی سلطنت اور وائیمار ری پبلک سے لے کر نازی سوشلسٹوں کے دورِ اقتدار تک اور پھر جرمنی کی تقسیم سے لے کر اس کے دوبارہ اتحاد تک۔ جہاں پیرس میں ایک ایک تاریخی یادگار کو فرانسیسیوں نے بچا بچا کر رکھا ہوا ہے، وہاں برلن میں ان یادگاروں کو تسلسل کے ساتھ منظر سے ہٹایا جاتا رہا۔

اس کی ایک نمایاں مثال نکولائی تومسکی کی ’یادگارِ لینن‘ ہے، جس کی نقاب کُشائی اُنیس اپریل 1970ء کو دو لاکھ سے زیادہ انسانوں کی موجودگی میں ایک بڑے اجتماع کے دوران ہوئی تھی۔ دیوارِ برلن کے انہدام کے بعد دیگر کئی یادگاروں کے ساتھ ساتھ لینن کے اس مجسمے کو بھی زمین میں دفن کر دیا گیا۔

تب یہ فیصلہ کافی زیادہ متنازعہ تھا۔ میوزیم کی انچارج آندریا تھیسن کے مطابق وقت کے ساتھ ساتھ سیاستدانوں کی سوچ میں کافی تبدیلی آ چکی ہے اور آج کے حالات میں اس طرح کے کسی فیصلے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس نمائش میں لینن کے اس مجسمے کا سر دیکھا جا سکتا ہے، جسے زمین سے نکال کر باہر لایا گیا ہے۔

Ausstellung Enthüllt. Berlin und seine Denkmäler

لینن کی یادگار کا یہ دیو ہیکل سر بیس سال تک زمین میں دفن رہا، اب پندرہ ملین یورو کی لاگت سے برلن میں سجنے والی ایک نمائش کا حصہ ہے، باقی مجسمہ بدستور دفن ہے

نازی آمر اڈولف ہٹلر نے جو چھیانوے یادگاریں جرمن قوم کی عظمت اور شان و شوکت کے اظہار کے لیے بنوائی تھیں، اُن میں سے بھی ستر سے زائد عمارتیں اس نمائش میں دیکھی جا سکتی ہیں۔