1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برلن کرسمس مارکیٹ حملہ: جرمن پولیس کا نو ماہ قبل ہی انتباہ

پتہ چلا ہے کہ جرمن پولیس نے برلن کرسمس مارکیٹ حملے سے نو مہینے قبل ہی اس کی پیش گوئی کر دی تھی اور حملہ آور انیس عامری کے حوالے سے خبردار کیا تھا کہ وہ کسی حملے کی تیاریاں کر رہا ہے۔

جرمن پولیس کی جانب سے اس واضح انتباہ کے باوجود حکام اُسے جبری طور پر اُس کے وطن تیونس واپس بھیجنے کی ہدایات کو یہ کہہ کر نظر انداز کرتے رہے کہ ایسا کرنا قانونی طور پر ناممکن ہے۔

برلن کرسمس مارکیٹ پر ایک ٹرک کی مدد سے کیے گئے اس حملے میں بارہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اتوار چھبیس مارچ کو جرمن اخبار ’بِلڈ اَم زونٹاگ‘ نے بتایا ہے کہ سب سے زیادہ آبادی والے جرمن صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کی جرمن اسٹیٹ پولیس LKA نے نو مہینے قبل ہی اس حملے کی پیش گوئی کر دی تھی، جب اُس نے اس صوبے کی وزارت داخلہ کو خبردار کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ انیس عامری کی جانب سے کسی خود کُش حملے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔

تفتیش کاروں نے ایک خفیہ مراسلے میں دیگر شواہد کے ساتھ ساتھ ٹیلی گرام موبائل اَیپ پر عامری کی چَیٹ کی اُن تفصیلات کا بھی ذکر کیا تھا، جس میں عامری نے اس طرح کا کوئی قدم اٹھانے کا عندیہ دیا تھا۔

اس انتباہ کے باوجود اس جرمن صوبے کی وزارتِ داخلہ نے عامری کو قانونی وجوہات کی بناء پر جبراً تیونس واپس نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا۔ برلن حملے کے بعد بھی اس صوبے کے وزیر داخلہ رالف ژیگر اسی موقف کا اعادہ کرتے رہے ہیں۔ ژیگر آئندہ بدھ کے روز ایک پارلیمانی تحقیاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے والے ہیں۔

Fahndungsfoto Anis Amri (picture-alliance/dpa/Bundeskriminalamt)

تیونس کے اس شہری نے ایک درجن سے زیادہ مختلف ناموں کے ساتھ شناختی دستاویزات بنا رکھی تھیں

ژیگر کے استعفے کے مطالبات

ان انکشافات کے سامنے آنے کے بعد سے اپوزیشن کی جانب سے صوبائی وزیر داخلہ ژیگر کے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے مطالبات زور پکڑ گئے ہیں۔ لبرل ڈیموکریٹ یوآخیم اسٹامپ نے اخبار ’بِلڈ اَم زونٹاگ‘ کو بتایا:’’یہ میمورینڈم اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وزیر داخلہ ژیگر اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہے۔‘‘

اس صوبے میں کرسچین ڈیموکریٹک یونین نامی جماعت کے سربراہ آرمین لاشیٹ نے کہا:’’یہ انکشافات ڈرامائی ہیں۔ وزیر داخلہ ژیگر پورے جرمنی کے باشندوں کی سلامتی کے لیے ایک خطرہ ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ جرمن اسٹیٹ پولیس کی مارچ 2016ء میں وزارتِ داخلہ کو بھیجی جانے والی اس خفیہ رپورٹ کے نو مہینے بعد انیس عامری نے دارالحکومت برلن کے عین وسط میں ایک کرسمس مارکیٹ پر ایک ٹرک چڑھا دیا تھا اور بارہ افراد کو کچل کر ہلاک کر دیا تھا۔ اس حملے میں درجنوں افراد زخمی بھی ہو گئے تھے۔

Nach Anschlag auf Berliner Weihnachtsmarkt Gedächtniskirche (picture-alliance/dpa/M.Kappeler)

جرمن دارالحکومت برلن کا وہ مرکزی علاقہ، جہاں ٹرک کے ساتھ ایک کرسمس مارکیٹ کو نشانہ بنایا گیا

تیونس کے اس شہری نے ایک درجن سے زیادہ مختلف ناموں کے ساتھ شناختی دستاویزات بنا رکھی تھیں اور اگرچہ حکام اُسے جبری طور پر اُس کے وطن واپس بھیجنا چاہتے تھے لیکن اُس کے پاس ایسی دستاویزات تھیں، جن کے تحت اُسے مزید اٹھارہ ماہ تک جرمنی میں قیام کی اجازت حاصل تھی۔

آئندہ بدھ کے روز صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کی پارلیمان صوبے کے کئی سرکردہ سیاستدانوں سے پوچھ گچھ کرتے ہوئے یہ معلوم کرنے کی کوشش کرے گی کہ عامری کو ڈی پورٹ کرنے میں ناکامی کیوں ہوئی اور وہ کیسے حکام کی نظروں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوتا رہا۔