1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

برلن کا ٹیمپل ہوف، جرمنی میں ’مہاجرین کا سب سے بڑا کیمپ‘

برلن کی صوبائی حکومت نے قانون میں ترمیم کرتے ہوئے ٹیمپل ہوف کے متروک ہوائی اڈے پر تعمیراتی کام کی اجازت دے دی ہے۔ جرمنی میں مہاجرین کے لیے اضافی رہائش کے اس سب سے بڑے منصوبے کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔

سن 2014ء میں منظور کیے گئے ایک قانون کے تحت ٹیمپل ہوف کے سابقہ ہوائی اڈے کو ایک پارک میں تبدیل کر دیا گیا تھا اور ساتھ ہی وہاں تعمیراتی کاموں پر پابندی بھی عائد کر دی گئی تھی۔

تاہم مہاجرین کی بڑے پیمانے پر جرمنی آمد اور ان کی رہائش کی خاطر انتظامات پر برلن حکومت کو شدید انتظامی مسائل کا سامنا ہے۔ اسی تناظر میں برلن کے اس سابقہ تاریخی ہوائی اڈے کو عارضی پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔

اٹھائیس جنوری بروز جمعرات فیصلہ کیا گیا کہ ٹیمپل ہوف ہوائی اڈے کے ارد گرد جرمنی کا سب سے بڑا مہاجر شیلٹر ہاؤس تعمیر کیا جائے گا تاکہ مہاجرین کے لیے رہائش کا مناسب انتظام کیا جا سکے۔ اندازے کے مطابق اس شیلٹر ہاؤس میں سات ہزار مہاجرین کے لیے رہائش کی گنجائش ہو گی۔

برلن حکومت کے اس اقدام پر اپوزیشن اور انسانی حقوق کے سرکردہ کارکنان نے تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس پیشرفت سے سماجی سطح پر تناؤ میں اضافہ ہو جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ جرمن معاشرے میں بہتر انضمام کے لیے ان مہاجرین کو باقاعدہ رہائشی علاقوں میں آباد کرنا چاہیے۔

برلن کی ریاستی حکومت کے نئے منصوبے کے تحت تاریخی ٹیمپل ہوف ہوائی اڈے کے علاقے میں پانچ مزید عمارتیں تعمیر کی جائیں گی، جن میں اسپورٹس سینٹرز، بچوں کے لیے تعلیمی ادارے اور دیگر سہولیات بھی مہیا کی جائیں گی۔ اس قانون کے مطابق اکتیس دسمبر 2019ء تک ان تمام عارضی عمارات کا خاتمہ لازمی ہوگا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اسے مہاجرین کی بڑے پیمانے پر ملک میں آمد کے باعث شدید انتظامی مسائل کا سامنا ہے اور بالخصوص برلن میں ٹیمپل ہوف ہوائی اڈے کے علاوہ کوئی اضافی جگہ نہیں کہ مہاجرین کو وہاں بہتر انداز میں آباد کیا جا سکے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ فوری طور پر یہی حل ہو سکتا ہے جبکہ بعد ازاں صورتحال میں بہتری کے نتیجے میں دیرپا حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔

Flüchtlingsunterkunft im ehemaligen Flughafen Tempelhof

ایک قانون کے تحت ٹیمپل ہوف کے سابقہ ہوائی اڈے کو ایک پارک میں تبدیل کر دیا گیا تھا

تاہم برلن میں اپوزیشن کی گرین پارٹی کی رہنما Antje Kapek نے اس حکومتی منصوبے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک ایسی کوئی تجزیاتی رپورٹ تیار نہیں کی گئی کہ ٹیمپل ہوف کے سابق ایئر پورٹ پر سات ہزار افراد کے لیے مناسب رہائش کا انتظام ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح اپوزیشن کی لیفٹ پارٹی کے رہنما کلاؤس لیڈرَرKlaus Lederer نے بھی اس منصوبے کو جرمنی میں ’سماجی انضمام کی پالیسی‘ کے لیے تباہ کن قرار دیا ہے۔

اگرچہ نئے قانون کے مطابق ٹیمپل ہوف کے ہوائی اڈے پر عارضی رہائش گاہوں کو چار برس بعد ختم کر دیا جائے گا لیکن کئی حلقوں کا خیال ہے کہ وہاں مہاجرین کے ٹھکانے مستقل شکل بھی اختیار کر سکتے ہیں۔ یہ امر اہم ہے کہ اس مقام پر مہاجرین کے لیے بنائے گئے موجودہ شیلٹر ہاؤس میں مناسب سہولیات کا شدید فقدان ہے۔ یہ شیلٹر ہاؤس صرف دو ہفتوں کے قیام کو مد نظر رکھتے ہوئے بنائے گئے تھے لیکن وہاں مہاجرین گزشتہ تین ماہ سے سکونت پذیر ہیں، جس سے مسائل بھی پیدا ہو رہے ہیں۔