1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

برلن کا آخری اسپورٹس ہال بھی مہاجرین سے خالی

برلن کی شہری حکومت نے اعلان کیا ہےکہ شہر کے تمام اسپورٹس ہالز کو مہاجرین اور تارکین وطن سے خالی کرایا جا چکا ہے۔ اس سے ان مہاجرین کے مددگاروں کو راحت ہو گی۔

برلن کی حکومت کا کہنا ہے کہ شہر میں کھیلوں کے تمام ہالز مہاجرین سے خالی کرا لیے گئے ہیں۔ گزشتہ کئی ماہ سے ان ہالز میں مہاجرین کو رکھا گیا تھا مگر اب ان مہاجرین کو ان کی اصل قیام گاہوں میں بھیج دیا گیا ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس منتقلی سے ان مہاجرین کا معیار زندگی بہتر ہو گیا ہے۔

اپریل کے آغاز میں برلن کی حکومت نے تارکین وطن سے متعلق اپنی پالیسی کا یہ سنگ میل عبور کرنے پر مسرت کا اظہار کیا ہے۔ حکومتی اعلان کے مطابق شہر کے شمال میں کھیلوں کا وہ آخری ہال بھی خالی کرا لیا گیا ہے، جہاں 78 مہاجر قیام پذیر تھے۔ ان مہاجرین کو دیگر مقامات پر متنقل کر دیا گیا ہے۔

جمعے کے روز برلن کی فریٹس روئٹر شٹراسے نامی گلی میں واقع اس ہال میں مقامی سیاست دانوں نے فوٹو بھی کھچوائے۔ اس اعلان کا مطلب یہ ہے کہ کم از کم برلن میں اب کھیلوں کا کوئی ہال مہاجرین کی میزبانی کے لیے مختص نہیں۔

Deutschland Flüchtlinge auf Tempelhofer Feld in Berlin (DW/R. Shirmohammadi)

درجنوں مہاجرین کو اسپورٹس ہالز میں رکھا گیا تھا

سن 2015ء میں مہاجرین کی بڑی لہر جرمنی میں داخل ہوئی تھی، تو اتنی بڑی تعداد میں مہاجرین کو رہائش فراہم کرنے کے لیے اسکول اور کھیلوں کے ہالز بروئے کار لائے گئے تھے، تاہم اسی تناظر میں حکومت پر تنقید بھی کی جا رہی تھی کہ وہ اپنی استطاعت سے زیادہ تعداد میں مہاجرین کو ملک میں داخل ہونے دے رہی ہے۔

برلن کی وزیر برائے سماجی امور ایلکے برائٹن باخ اور سوشل ڈیموکریٹ جماعت وزیر خزانہ ماتھیاس کولاٹس آہنن نے خوشی سے یہ اعلان کیا کہ شہری انتظامیہ نے اپنا یہ ہدف حاصل کر لیا ہے۔ شہری انتظامیہ نے سن 2017ء کی پہلی سہہ ماہی کے اختتام سے قبل شہر کے تمام اسپورٹس ہالز کو مہاجرین سے خالی کرانے کا ہدف طے کر رکھا تھا۔

برائٹن باخ نے اس موقع پر کہا، ’’میرے لیے یہ قابل سکون بات ہے کہ بالآخر اسپورٹس ہالز میں بری صورت حال کے شکار مہاجرین کو دیگر مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ تمام مہاجرین اب بہتر جگہوں پر جا چکے ہیں۔ اب سب کو پرائیویٹ جگہ دستیاب ہے۔‘‘

اس موقع پر برائٹن باخ نے بتایا کہ مہاجرین سے خالی کرائے گئے 63 اسپورٹس ہالز کی تزین نو کے لیے 18 تا 19 ملین یورو درکار ہوں گے، کیوں کہ ان جگہوں پر سن 2015ء سے مہاجرین مقیم تھے۔