1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

برلن نے مہاجرین کو یوں خوش آمدید کہا کہ وہ ’اُڑنے لگے‘

جرمنی کے دارالحکومت برلن میں دنیا کے نامور موسیقاروں نے تارکین وطن کے لیے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ کنسرٹ میں شریک شامی مہاجر محمد کا کہنا تھا، ’’ایک لمحے کے لیے میں سب کچھ بھول گیا۔‘‘

تارکین وطن کے لیے اس مفت کنسرٹ کا اہتمام برلن کے مشہور زمانہ فِل ہارمونک ہال میں کیا گیا تھا جس میں بائیس سو سے زائد پناہ گزین اور ان کی مدد میں مصروف رضاکار شریک ہوئے۔ پچیس سالہ محمد بھی ان سینکڑوں تارکین وطن میں سے ایک تھا اور اس نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا، ’’ہم نے مہاجر بن کر بہت تکلیفیں برداشت کی ہیں لیکن میں اس لمحے کا معترف ہوں۔‘‘

ہمیں وطن واپس آنے دو! پاکستانی تارکین وطن

جرمنی میں اب تک کتنے پاکستانیوں کو پناہ ملی؟

کنسرٹ کے دوران دنیا بھر سے آئے ہوئے نامور فنکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ فِل ہارمونک ہال کے جنرل مینیجر مارٹن ہوفمان نے کنسرٹ کے آغاز پر پناہ گزینوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا، ’’ہم آپ کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے برلن میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ ایک زبان ہے جو ہم سب کو سمجھ آتی ہے، اور وہ ہے موسیقی کی زبان۔‘‘

محفل موسیقی کا اہتمام اگرچہ جرمن وفاقی چانسلر انگیلا میرکل کی سرپرستی میں کیا گیا تھا تاہم ان کی نمائندگی جرمنی کے وفاقی وزیر خزانہ وولف گانگ شوئبلے نے کی۔ اس موقع پر تارکین وطن کے بچوں کی بھی بڑی تعداد موجود تھی۔

Berlin Berliner Philharmoniker Konzert für Flüchtlinge und Helfende

کنسرٹ میں مہاجر عورتوں اور بچوں کی بھی بڑی تعداد شریک ہوئی

ڈیڑھ گھنٹے کی محفل موسیقی نے حاضرین کو ایک اور ہی دنیا میں پہنچا دیا۔ شامی مہاجر خاتون میسرہ کا کہنا تھا، ’’یہ حیرت انگیز تھا، مجھے یوں لگا جیسے میں بادلوں میں اڑ رہی ہوں۔ کنسرٹ بہترین تھا اور موسیقی شاندار۔‘‘

میسرہ کا کہنا تھا کہ خانہ جنگی شروع ہونے سے پہلے وہ شامی دارالحکومت دمشق میں بھی موسیقی کی ایسی محافل میں جایا کرتی تھی، لیکن جرمنی میں وہ پہلی مرتبہ کسی کنسرٹ میں شریک ہوئی ہے۔

اسرائیلی فنکار ڈینئل بارنبوئم نے اپنے فن کا اظہار کرنے سے قبل حاضرین کو عربی زبان میں خوش آمدید کہا جس کے بعد انہوں نے معروف جرمن موسیقار بیتھوون کی ترتیب کردہ دھن پیش کی۔

تارکین وطن کی مدد کرنے والے ایک سماجی ادارے سے وابستہ انچاس سالہ رضاکار خاتون کوری سنڈرن نے اس محفل کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ’’یہ اہم ہے کہ تارکین وطن کو ہر شعبہ زندگی کی جانب سے خوش آمدید کہا جائے کیوں کہ یہاں ایسے لوگ بھی ہیں جو پناہ گزینوں کو ناپسند کرتے ہیں یا ان سے خوفزدہ ہیں۔‘‘

کیمرون سے آئے ہوئے چوبیس سالہ موریس نامی پناہ گزین کا کہنا تھا، ’’میں نے زندگی میں ایسے شاندار کنسرٹ میں شریک ہونے کا خواب تک نہ دیکھا تھا۔ میں بہت خوش اور شکر گزار ہوں کہ ہمیں ایسے شاندار کنسرٹ میں شریک ہونے کا موقع دیا گیا۔‘‘

DW.COM