1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

برلن : نوجوان مصوروں کے لیے باعث کشش

جرمن دارالحکومت برلن اپنے میوزیمز اور نادر فن پاروں کے ذخیرے کی وجہ سے خاص شہرت رکھتا ہے۔ روم، وینس اور پیرس چھوڑ کر نوجوان مصور اب جرمن دارالحکومت کا رخ کر رہے ہیں۔

default

جرمن دارالحکومت میں اسٹوڈیوز اور میوزیمز کی برھتی ہوئی تعداد کی ایک وجہ نوجوان مصوروں کا اس شہر کی جانب رخ کرنا ہے۔ ساتھ ہی دریائے اسپرے کےکنارے آباد یہ شہر تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال ان نوجوانوں کو رہنے اور کام کرنے کے لیے بہت ہی سازگار ماحول اور مواقع فراہم کر رہا ہے۔

یورپ کے مصوروں میں ہجرت کرنے کا رجحان پایا جاتا ہے۔ مختلف ادوار میں یہ تخلیق کار مختلف شہروں کو اپنا مرکز بنا چکے ہیں۔ کبھی پیرس مصوری کا مرکز تھا تو کبھی روم ۔کبھی وینس کو فنکاروں کی جنت کہا جاتا تھا تو کبھی لندن آرٹسٹوں کو اپنی جانب کھینچتا تھا۔ تاہم جرمن دارالحکومت برلن آج کل نوجوان فنکاروں کو اپنی فنکارانہ صلاحیتں اجاگر کرنے کا بھرپور موقع فراہم کر رہا ہے۔

Berlin Chamissoplatz

جرمن دارالحکومت میں آج کل رہائش پذیر مصوروں کی تعداد کے بارے میں کسی کو صحیح اندازہ نہیں ہے

برلن کے مرکز میں ملِش ہوف نامی ایک عمارت میں کئی اسٹوڈیوز قائم ہیں۔ یہاں پر موجود ایک اسٹوڈیو سے مصور مَنفریڈ فُکس بھی منسلک ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’’یہاں پر ایسا لگتا ہے کہ کہ ہم ایک جزیرے پر ہیں۔ دائیں اور بائیں جانب نئے تعمیراتی منصوبے جاری ہیں۔ کبھی کبھار مشکل بھی ہوتی ہے لیکن ہمارے خیال میں یہ ایک خوبصورت امتزاج ہے‘‘۔

مَنفریڈ فُکس 1992ء سے ملِش ہوف نامی اس عمارت میں رہتے ہیں۔ وہ مصوروں کی اسی نام کی ایک تنظیم کے رکن بھی ہیں۔ایک طویل عرصے سے مِلش ہوف میں مقیم ہونے کی وجہ سے انہوں نے تمام مراحل دیکھے ہیں کہ کس طرح یہ عمارت مختلف اسٹوڈیوز میں تبدیل ہوئی۔

اس عمارت میں مجسمہ ساز آنے کَاٹرِن اِسٹُورک کا بھی اسٹوڈیو ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ یہاں کل 48 مصور، تخلیقی کاموں میں مصروف ہیں۔ ساتھ ہی کئی موسیقاروں اور بینڈز نے بھی اپنے اسٹوڈیو قائم کر رکھے ہیں۔ بطور مجسمہ ساز اکثر انہیں مدد کی ضرورت ہوتی ہے اور تب وہ اپنے پڑوسیوں کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہیں۔ مصور زیادہ تر تنہا، بند دروازوں کے پیچھے مکمل توجہ کے ساتھ اپنی دھن میں مگن ہو کر کام کرنا پسند کرتے ہیں۔ آنے اسٹروک کہتی ہیں کہ جب کبھی کافی کا وقفہ ہوتا ہے تو دوسروں کے ساتھ خیالات کے تبادلے کا موقع ملتا ہے۔ مارُوشا بھی مصور ہیں اور ان کا تعلق اٹلی سے ہے۔ وہ ملش ہوف میں اپنے تجربے کے بارے میں بتاتی ہیں کہ یہاں کے تمام فنکاروں کا تعلق جرمنی سے نہیں ہے۔ یہاں آسٹریلیا، جنوبی افریقہ، روس اور پولینڈ کے بھی لوگ موجود ہیں اور یہ ان کے لیے ایک تحفے سے کم نہیں ہے۔ اتنی ساری مختلف اقوام کے ساتھ رہ کر بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔

مارُوشا نے کچھ عرصہ قبل ہی محبت کے ہاتھوں مجبور ہوکر برلن کا رخ کیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ شہر میں موجود فنکاروں اور مصوروں کی وجہ سے ایک خاص ماحول بنا ہوا ہے۔ وہ شہر کے اس رنگ سے بہت متاثر ہیں۔

Hokusai – Retrospektive im Gropius-Bau berlin

برلن میں اسٹوڈیوز اور میوزیمز کی برھتی ہوئی تعداد کی ایک وجہ نوجوان مصوروں کا اس شہر کی جانب رخ کرنا ہے۔

ساتھ ہی وہ اس بات سے بھی بہت خوش ہیں کہ برلن یورپ کے دیگر دارالحکومتوں مثلاً روم، لندن یا میڈرڈ کے مقابلے میں قدرے سستا ہے۔ آنے کہتی ہیں کہ یہ بھی ایک وجہ ہے کہ دنیا بھر سے نوجوان مصور اس شہر کا رخ کر رہے ہیں۔’’میرے خیال میں برلن کی یہ بھی کشش ہے، جو لوگوں کو اپنی جانب کھینچتی ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ جب دوسرے آرٹسٹ یہاں آتے ہیں تو وہ یہاں کے فن کے لیے ساز گار حالات سے بہت متاثر ہوتے ہیں‘‘۔

جرمن دارالحکومت میں آج کل رہائش پذیر مصوروں کی تعداد کے بارے میں کسی کو صحیح اندازہ نہیں ہے۔ تاہم اسٹوڈیوز کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ شہر کے مرکز میں واقع زیادہ تر اسٹوڈیوز اب خالی ہو جانے والے صنعتی علاقوں میں منتقل ہو رہے ہیں۔ منفریڈ فُکس کہتے ہیں کہ شہر میں مکانوں کے کرایے آسمان سے باتیں کرنے لگے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ فنکاروں کو اب یہاں کوئی جگہ نہیں ملتی۔ شہر کے مرکزی حصے میں مقابلہ بہت سخت ہے، کرایے اتنے زیادہ بڑھ گئے ہیں کہ اخراجات برداشت کرنا نا ممکن ہو گیا ہے۔

مِلش ہوف میں ایک اسٹوڈیو کا کرایہ دو سو یورو ہے، جس میں بجلی اور ہیٹر کے پیسے بھی شامل ہیں۔ فنکاروں نے یہ پوری بلڈنگ ایک لمبے عرصے تک کے لیے کرایے پر حاصل کی ہوئی ہے۔ یہاں جو بھی نوجوان مصور آتا ہے وہ لمبے عرصے تک قیام کرتا ہے۔ کیونکہ ابتدا میں اکثر نوجوان مصوروں اور مجسمہ سازوں کی آمدنی اتنی نہیں ہوتی کہ وہ کسی مہنگے اسٹوڈیو میں منتقل ہو سکیں۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: امجد علی

DW.COM