1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برلن میں یوکرائن کے موضوع پر ہنگامی اجلاس

جرمنی کی میزبانی میں آج برلن میں یوکرائن کے موضوع پر ایک ہنگامی اجلاس ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق برلن اجلاس سے کسی بڑے فیصلے کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی میزبانی میں ہونے والے اس اجلاس میں فرانسیسی سربراہ مملکت فرانسو اولانڈ، روسی صدر ولادی میر پوٹن اور ان کے یوکرائنی ہم منصب پیٹرو پوروشینکو شرکت کر رہے ہیں۔ آج بدھ 19 اکتوبر کی شام ہونے والی اس بیٹھک کا مقصد مشرقی یوکرائن میں قیام امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کا جائزہ لینا ہے۔ 2014ء کے اوائل سے جاری اس تنازعے میں اب تک ساڑھے نو ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ماہرین نے بتایا ہے کو برلن اور ماسکو نے آج ہونے والے اجلاس سے بہت زیادہ توقعات وابستہ نہیں کی ہوئیں۔ یوکرائن میں امن کے قیام کے حوالے سے مِنسک معاہدے پر ابھی تک مکمل طور پر عمل درآمد نہیں کیا جا سکا ہے اور بار بار اس کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں کییف حکومت روس نواز باغیوں کو جبکہ باغی کییف حکومت کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔

روسی حکومت کے ترجمان دیمتری پیشکوف کے مطابق روس کو توقع ہے کہ اس اجلاس کے دوران مشرقی یوکرائن کی صورتحال کا تعمیری طور پر جائزہ لیا جائے، ’’ہمار ہدف ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور وہ کیا چیز ہے جو ہمیں منسک معاہدے پر عمل درآمد سے روک رہی ہے۔‘‘ پیشکوف نے مزید کہا کہ روس کسی بڑے فیصلے کی توقع نہیں کر رہا۔

اس تناظر میں میرکل نے منگل کے روز کہا تھا کہ وہ اور فرانسوا اولانڈ کریملن کے سربراہ سے شام میں روس کی فوجی کارروائیوں اور حلب میں بمباری کے بارے میں بھی بات کریں گے۔ برلن کے لیے روانہ ہونے سے قبل فرانسیسی صدر نے کہا تھا کہ وہ حلب میں بمباری کے درمیان وقفے میں توسیع کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ان کے بقول حلب میں تقریباً تین لاکھ افراد پھنسے ہوئے ہیں۔

انگیلا میرکل، فرانسوا اولانڈ، پیٹرو پوروشینکو اور ولادی میر پوٹن یوکرائن کے موضوع پر آخری مرتبہ ایک سال قبل پیرس میں ملے تھے۔ یوکرائن تنازعہ شروع ہونے کے بعد سے یہ پہلی مرتبہ ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن برلن کا دورہ کر رہے ہیں۔