1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

برلن میں منعقدہ افغانستان کانفرنس

برلن اور کابل حکومت افغانستان میں استحکام کے لئے ایک جامع اور صحیح حکمت عملی وضح کرنے پر سنجیدگی سے غور و خوض کر رہی ہے۔ جرمنی کی خواھش ہے کہ دونوں پڑوسی ممالک پاکستان اور افغانستان بھی ایسی ہی حکمت عملی تیار کریں۔

default

جرمن وزیر دفاع فرانس یوزف یونگ کے مطا بق افغانستان میں جرمن فوجیوں پر نئے حملے ہوئے ہیں۔ قندوز متعینہ جرمن فوجی دستے سمیت کوئک ریاکشن فورس کے گشتی دستے کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

فرانک یوزف یوننگ نے کہا کہ وہ اس ساری صورتحال کا جائزہ اس لئے پیش کر رہے ہیں کہ جرمنی میں طالبان کی طرف سے ہونے والے بحث و مباحثے پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔ جرمنی اکتوبر کے ماہ میں اپنے مینڈیٹ کی توسیع کے بارے میں فیصلہ کرنے والا ہے۔ اس لئے افغانستان کی صورتحال کو کسی حد تک رائے عامہ کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔:


جرمن وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ طالبان کو جنوبی افغانستان میں انکی خواھش کے مطابق کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے اور شمال میں جس جگہ جرمن فوج تعینات ہے وہاں انہیں خاصہ چکرانا پڑا ہے۔ اس لئے جرمنی مینڈیٹ کی توسیع کے تحت اس سال خزاں میں ساڑھے تین ہزارفوجیوں پر مشتمل جرمن دستے میں اضافہ کر کہ اپنے فوجیوں کی تعداد ساڑھے چار ہزار کر دے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ جرمن حکومت تعمیر نوء کے سول پروجیکٹس کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے سلامتی کے ایک ملٹری اور سول نٹ ورک کو زروری سمجھتی ہے۔ فرانک یوزف یونگ کے اس خیال سے اتفاق کرتے ہوئے جرمنی کے دورے پر آئے ہوئے افغان وزیر خارجہ رنگین دادفر اسپنتاء نے بھی سول تعمیر نوء اور ملٹری تعیناتی کو ایک دوسرے سے مربوط رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے استحکام کی صحیح حکمت عملی کو جرمن پریس بھی فولو کر رہا ہے۔ یعنی یہاں میڈیا میں فوجی تعیناتی کو سول تعمیر نوء کے بالمقابل یا ایک دہسرے کے مخالف نہیں پیش کیا جا رہا ہے۔ صحیح حکمت عملی یہ ہے کہ اگر ہم افغانستان میں ایک پل تعمیر کریں تو اسے دھشت گردانہ حملوں سے بچانے کی بھی تدابیر کی جانی چاھئیں۔


سلامتی اور دھشت گردی کے خلاف موئثر اقدامات کے موضوع پر برلن منعقدہ اس کانفرنس میں خاصی گرما گرم بحث ہوئی۔ افغان وزیر خارجہ نے جہاں اپنی حکومت کی کوتاہیوں کا زکر کیا وہاں اس بارے میں ناکافی اور غیر موئثر اقدامات کے ضمن میں عالمی برداری کے ساتھ ساتھ پاکستان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

کانفرنس میں موجود برلن متعینہ پاکستانی سفیر شاہد احمد کمال نے پاکستانی وزیر دفاع کی تقریر پڑھ کر سنائی ۔ جس میں افغانستان کی طرف سے مسلسل پاکستان پر کی جانے والی تنقید کی مذمت شامل تھی۔ شاہد کمال نے کہا کہ افغانستان مُنشیات کی پیداوار کے خلاف اقدامات اورغیر واضح سرحدی علاقوں کے تحفظ کے لئے خود کافی اقدامات نہیں کر رہا۔ سفیر پاکستان کے مطابق نیٹو کے دستوں یہ تنقید لاگو ہوتی ہے۔

پاکستانی سفیر شاہں احمد کمال نے کانفرنس میں اس امر پر زور دیا کہ نیٹو اور آئی سیف کو افغانستان کے سرحدی علاقوں کے کنٹرول کے لئے زیادہ موئثر اقدامات کرنا ہونگے۔ اسکے علاوہ افغان پولیس اور فوج کی تربیت کا عمل کافی پیچھے ہے۔ اس پر توجہ بھی ضروری ہے۔ ساتھ ہی سرحدوں کے دونوں طرف پشتونوں کے دل جیتنا بھی اشد ضروری ہے۔ اس کا ایک طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ تعمیر نوء کے پروجیکٹس میں با رسوخ پشتون ترجمانوں کو بھی شامل کیا جائے، ان پر اعتماد کیا جائے اور دوسری طرف یہ شرط رکھی جائے کہ وہ پشتون قبیلوں کے نوجوانوں کو ان سرگرمیوں میں شامل کریں اور اس طرح استحکام کی فضاء ہموار کی جائے۔:

جرمن وزیر دفاع فرانک یوزف یونگ نے امید ظا ہر کی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین جلد بورڈر کنٹرول پر اتفاق ہو جائے گا۔