1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

برلن میں مطالعے اور زبانوں کے فروغ کا ویک

گزشتہ دنوں جرمن دارالحکومت برلن میں مطالعے اور زبانوں کے فروغ کا ایک ویک منایا گیا۔ اس کا مقصد اسکول کی سطح کے طلبہ اور نوجوانوں کو ادب اور شاعری کی جانب راغب کرنا تھا۔

default

جرمن دارالحکومت برلن میں گزشتہ دنوں مطالعے اور زبانوں کا ہفتہ منایا گیا۔ اس کا مقصد نوجوانوں پر اس شعبے کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔ اس کے علاوہ ادیب اور صحافی بننے کے خواہش مند نوجوانوں کے لئے بھی وہاں بہت کچھ موجود تھا۔ تیسری مرتبہ منعقد کرائے جانے والے اس فیسٹیول کے دوران 350 مختلف پروگراموں کا اہتمام کیا گیا اور اس کا سہرا برلن کی’ نوئے کُلن‘ نامی ایک تنظیم کےسر رہا۔ ’نوئے کُلن‘ برلن کا ایک علاقہ بھی ہے، جو تارکین وطن کے حوالے سے کافی شہرت رکھتا ہے۔ علاقےکی بہتری کے علاوہ وہاں کے نوجوانوں کی نفسیاتی تربیت بھی اس ہفتے کے انعقاد کے اہم مقاصد میں شامل تھی۔

اس مرتبہ اسکولوں کے طلبہ پرخاص توجہ مرکوز رکھی گئی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ چھوٹی عمر کے بچے کوئی بھی بات مسلسل توجہ سے سننے میں دلچسپی نہیں رکھتے اور وہ اپنی صلاحیتوں کو اپنے ہی طریقوں سے استعمال میں لانا چاہتے ہیں۔ اس کی مثال یہ ہے کہ برلن کے اس علاقے کی اکثر دیواروں پر ایسی تحریریں اور نعرے درج ہیں، جو انہی بچوں کی تخلیق ہیں۔

مطالعے اور زبانوں کے فروغ کے اس ہفتے کے دوران ’نوئے کُلن‘ کے تقریباً تمام ہی اسکولوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ مختلف اسکولوں نے اس فیسٹیول کے دوران مختلف ذمہ داریاں نبھائیں۔

زبانوں کے اس ویک کے ترجمان کمال ہوئر کہتے ہیں کہ اس ویک کو منانے کا مقصد نوجوانوں میں مطالعے اور لکھنے کے شوق میں اضافہ کرنا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’نوئے کُلن کے ہر اسکول میں کس نہ کسی ادیب نے اپنی تحریر پڑھ کر سنائی تاکہ بچوں کی توجہ اس جانب راغب کی جا سکے۔ساتھ ہی ادیبوں نے بچوں کو یہ بھی بتایا کہ مصنف کس طرح بنا جاتا ہے‘

Englischer Garten

اس مرتبہ طالب علموں پر خصوصی توجہ دی گئی

کاظم ایردوآن برلن کے اس علاقے میں ایک طویل عرصے سے ماہر نفسیات کے طور پرکام کر رہے ہیں۔ مطالعے اور زبانوں کے اس ویک کو منانے کا خیال انہی کے ذہن میں آیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ ’نوئے کُلن‘ کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر نوجوانوں کے متعدد پروجیکٹس پرکام بھی کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس علاقے کی زیادہ تر آبادی تارکین وطن کا پس منظر رکھتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ایسی پیش رفت ’نوئے کُلن‘ کے نوجوانوں کے لئے بہت ضروری ہے۔

کاظم ایردوآن کے خیال میں ہمارے معاشرےکے نوے فیصد مسائل خیالات کا تبادلہ نہ ہونے اور گفت و شنید میں کمی کی وجہ سے جنم لیتے ہیں۔ یہ وجوہات کافی ہیں، مطالعے اور زبانوں کے فروغ کا ہفتہ منانے کے لئے۔

’نوئے کُلن‘ کا شمار برلن کے ان علاقوں میں ہوتا ہے، جہاں سے اکثر لڑائی جھگڑوں کی خبریں ملتی ہیں۔ کئی اسکولوں میں حالات ہمیشہ کشیدہ رہتے ہیں اور پولیس بھی گشت کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔کاظم ایردوآن کہتے ہیں کہ ایسے ماحول میں اس فیسٹیول نے وہاں کے باسیوں کو ادب اور مطالعے کی جانب راغب کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کے بقول تربیت کنڈر گارٹن سے ہی شروع ہو جاتی ہے، تعلیم کا تعلق زبان سے بھی ہے۔ اسی وجہ سے ہم خاص طور پر بچوں، نوجوانوں اور اسکولوں پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔بہرحال اس میں ہر ایک شامل ہو سکتا ہے چاہے اس کا تعلق تارکین وطن کے کسی گھرانے سے ہو یا نہ ہو، تاکہ ’نوئے کُلن‘ میں لوگوں کے درمیان پائی جانے والی تفریق کو ختم کیا جا سکے۔

اس ایک ہفتے کے دوران مختلف پروگرامات منعقد کرائے گئے۔ سب سے کامیاب زبان و ادب بالخصوص شاعری کا مقابلہ تھا، جس میں بارہ سے اٹھارہ سال تک کی عمر کے آٹھ سو طلبہ نے شرکت کی۔

رپورٹ : عدنان اسحاق

ادارت : مقبول ملک

DW.COM