1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

برلن میں ’لینن کی واپسی‘

دیوار برلن گِرنے کے 25 برس بعد لینن ایک بار پھر جرمن دارالحکومت میں واپس آ گئے ہیں۔ حکام نے روسی انقلابی سربراہ کے مجسمے کا گرینائٹ سے بنا ایک سر زمین سے نکالا ہے جسے ایک ٹرک پر لاد کر دوسری جگہ منتقل کیا گیا۔

مجسمے کا یہ 3.5 ٹن وزنی حصہ طویل عرصے سے برلن کے ایک کنارے پر موجود ایک جنگل میں دفن تھا اور جسے قریب قریب بُھلایا جا چکا تھا۔ تاہم لینن کے مجسمے کے اس سر کو برلن کے ایک نئے میوزیم کی زینت بنایا جائے گا جس میں ایسی شخصیات کے بارے نمائش کی جائے گی جنہوں نے جرمنی کی تاریخ میں اہم کردار ادا کیے۔

یہ نیا میوزیم برلن کے مغرب میں واقع سپانڈاؤ سِٹی میں بنایا گیا ہے۔ سپانڈاؤ سٹی کے ضلعی کونسلر برائے کلچر گیرہارڈ ہانکے کا مجسمے کا سر کی آمد پر کہنا تھا، ’’ویلکم بیک لینن‘‘ یعنی لینن واپسی پر خوش آمدید۔ ایک عرصے تک مِٹی کے نیچے دبے رہنے کے باوجود اس مجسمے کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا اور اس کا صرف بایاں کان غائب ہے۔

اس مجسمے کی نقاب کشائی 19 اپریل1970ء میں ایک خصوصی تقریب میں کی گئی جس میں دو لاکھ کے قریب لوگ شریک تھے

اس مجسمے کی نقاب کشائی 19 اپریل1970ء میں ایک خصوصی تقریب میں کی گئی جس میں دو لاکھ کے قریب لوگ شریک تھے

سرد جنگ کے دور میں جب برلن دو حصوں میں تقسیم تھا، یہ پانچ فٹ اونچا سر لینن کے اس مجسمے کا حصہ تھا جسے یوکرائن کے گلابی گرینائٹ پتھر کو تراش کر بنایا گیا تھا، مشرقی برلن میں 19 میٹر بلند نصب کیا گیا تھا۔ اسے نکولائی ٹومسکی نے ڈیزائن کیا تھا جو اس وقت سوویت اکیڈمی آف آرٹس کے صدر تھے۔

اس مجسمے کی نقاب کشائی 19 اپریل1970ء میں ایک خصوصی تقریب میں کی گئی جس میں دو لاکھ کے قریب لوگ شریک تھے۔ یعنی لینن کی سوویں برسی سے محض تین روز قبل۔ یہ مجسمہ 31 برس تک نصب رہا مگر جب دیوار برلن کو گرا دی گئی تو یہ مشرقی برلن میں نصب لینن کا یہ مجسمہ بھی لوگوں کے غیض و غضب کا نشانہ بنا۔

متحدہ برلن کے پہلے میئر، قدامت پسند ایبرہارڈ ڈِیپگن نے 1991ء کے آخر میں اس مجمسے کو ہٹانے کا حکم جاری کیا۔ اس مجسمے میں لگے فولادی بیمز اور گرینائٹ کو کاٹنے میں ورکرز کو کئی مہینے لگے اور انہوں نے اسے 120 ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا۔ ان ٹکڑوں کو پھر ٹرکوں میں لاد کر برلن کے جنوب مشرقی سرے پر موجود جنگلوں میں لے جایا گیا اور ریتلی زمین میں دفن کر دیا گیا۔

طویل عرصے سے یہی لگ رہا تھا کہ لینن کے مجسمے کا یہ سر ہمیشہ دفن رہے گا تا وقتیکہ تاریخ دانوں نے اسے کھود نکالنے کے لیے مہم چلائی۔ ایک برس قبل تک برلن حکومت کی طرف سے کہا گیا کہ اس مجسمے کا سر اور دیگر باقیات کہاں دفن ہیں اس سے کوئی بھی واقف نہیں ہے تاہم اسے تلاش کرنے میں برلن میں رہائش پزیر ایک امریکی فلم ساز نے مدد کی۔ رِک مِنیچ Rick Minnich نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ انہیں اس بات کا پتہ ہے کہ یہ مجسمہ کہاں دفن کیا گیا تھا۔ جس کے بعد مقامی حکام نے اس مجسمے کے سر کو کھود کر نکالنےکی اجازت دے دی۔