1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برلن میں جسم فروشی کے اڈوں پر پولیس کے چھاپے

بدھ کی شب دارالحکومت برلن کی پولیس نے شہر کے سب سے بڑے ریڈ لائٹ ایریا میں قائم جسم فروشی کے اڈوں پر چھاپے مارے ہیں۔ سات سو پولیس اہلکاروں کے ہمراہ ان چھاپوں کا مقصد غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنا تھا۔

برلن حکام تک یہ اطلاعات پہنچی تھیں کہ شہر کے سب سے بڑے ریڈ لائٹ ایریا میں قائم جسم فروشی کے اڈے ٹیکس کی ہیرا پھیری میں ملوث ہیں جبکہ ایسی اطلاعات بھی تھیں کہ کچھ خواتین خود کو رجسٹرڈ کروائے بغیر یہ کام کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ حکام کو یہ بھی شک تھا کہ کچھ خواتین کو بیرون ملک سے صرف جسم فروشی کے لیے اسمگل کیا گیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ گزشتہ شب کی گئی کارروائی میں تقریباﹰ سات سو پولیس اہلکاروں نے حصہ لیا جبکہ ان کے ہمراہ پراسیکیوٹرز، ٹیکس حکام اور کسٹم اتھارٹی کے عہدیدار بھی تھے۔

برلن پولیس کے ترجمان اسٹیفن ریڈلش کا کہنا تھا کہ چھاپے دارالحکومت کے مرکز میں واقع ٹیلی وژن ٹاور کے مضافات میں مارے گئے۔ گزشتہ شام آٹھ بجے شروع ہونے والے اس چھاپے میں جسم فروشی کے دو اڈوں کے مالکان کے وارنٹ گرفتاری پہلے ہی جاری کروائے جا چکے تھے جبکہ گرفتار ہونے والوں میں وہ چار خواتین بھی شامل ہیں، جو ان دو اڈوں پر کام کرتی تھیں۔

اسٹیفن ریڈلش کے مطابق یہ چھاپے ٹیکس چوری کے الزام اور غیر رجسٹرڈ خواتین کے کام کرنے کی وجہ سے مارے گئے ہیں۔ ان کے علاوہ انسانی اسمگلنگ اور کئی دیگر معاملات بھی ہیں۔

جرمنی میں جسم فروشی کو باقاعدہ قانونی حیثیت حاصل ہے جبکہ جسم فروشی کا کاروبار کرنے والے مرد و خواتین کو باقاعدگی سے ٹیکس بھی ادا کرنا پڑتا ہے۔ پولیس ترجمان کے مطابق یہ کاروبار کرنے والوں کے لے واضح گائیڈ لائنز یا ضوابط موجود ہیں۔ حکام کے مطابق سوشل سسٹم میں ادائیگیاں نہ کرنے کی وجہ سے حکومتی پنشن فنڈ کو 17.5 ملین یورو کا نقصان پہنچا ہے جبکہ ٹیکس کی مد میں چھ ملین یورو کا فراڈ کیا گیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ گزشتہ شام ان اڈوں پر جسم فروش خواتین اور ان کے گاہکوں سمیت 212 افراد موجود تھے اور سبھی نے پولیس کے ساتھ تعاون کیا تھا۔

سن دو ہزار دو میں جرمن حکومت نے جسم فروشی سے متعلق ایک نیا ایکٹ نافذ کیا تھا اور اسے قانونی حیثیت حاصل ہو گئی۔ تب تک جسم فروشی کرنے والی خاتون اور کسی سیکس سینٹر کے مالک کے درمیان ہونے والے معاہدے کو غیر اخلاقی تصور کیا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ قحبہ خانہ چلانے والے کے خلاف جسم فروشی کو فروغ دینے کے الزام کے تحت اُس پر مقدمہ بھی چلایا جا سکتا تھا۔ اب قحبہ خانہ چلانے والوں کو قانونی تحفظ حاصل ہے۔

جسم فروش خواتین کو ٹیکس پہلے بھی ادا کرنا پڑتا تھا لیکن اب ایسی خواتین ہیلتھ اور سماجی انشورنس بھی کروا سکتی ہیں۔ جسم فروش خواتین مستقل بنیادوں پر بھی کام کر سکتی ہیں جبکہ جسم فروش خواتین کا استحصال اب بھی جرم ہے۔

برلن کی ایک تنظیم ’ہائیڈرا‘ کے مطابق جرمنی میں جسم فروش خواتین کی تعداد تقریباً چار لاکھ ہے۔ تاہم اس حوالے سے بھی معلومات بہت محدود ہیں۔ کام ڈھونڈنے کی نیت سے آنے والی ہر گیارہویں لڑکی نابالغ ہوتی ہے۔