برلن: مہاجریں کے ایک مرکز میں پولیس کی فائرنگ، ایک شخص ہلاک | مہاجرین کا بحران | DW | 28.09.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

برلن: مہاجریں کے ایک مرکز میں پولیس کی فائرنگ، ایک شخص ہلاک

برلن میں مہاجرین کے ایک مکان میں دو رہائشیوں کے درمیان تنازعے کے دوران پولیس کو گولی چلانا پڑ گئی۔ اس واقعے میں ایک 29 سالہ عراقی مہاجر ہلاک ہو گیا ہے۔

خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق منگل کی شب یہ واقعہ اس وقت پیش آیا، جب جرمن دارالحکومت میں مہاجروں کو مہیا کیے جانے والے ایک شیلٹر ہاؤس کے دو رہائشیوں کے درمیان تنازعہ چاقو حملے میں بدل گیا۔ بتایا گیا ہے کہ 29 سالہ عراقی مہاجر نے اپنی بیٹی پر جنسی حملہ کرنے والے 27 سالہ پاکستانی پر اس وقت چاقو سے وار کرنے کی کوشش کی، جب پولیس اسے ہتھکڑیاں پہنا کر اپنے ساتھ لے جا رہی تھی۔ اس حملے کو روکنے کے لیے پولیس کو گولی چلانا پڑ گئی، جس کے نتیجے میں یہ عراقی مہاجر مارا گیا۔

عینی شاہدین کے مطابق اس پاکستانی مہاجر نے 29 سالہ عراقی مہاجر کی بیٹی کو جنسی حملے کا نشانہ بنایا، جس پر ان دونوں کے درمیان لڑائی شروع ہو گئی اور پولیس طلب کی گئی۔

Deutschland Flüchtlinge kommen an der ZAA in Berlin an (Getty Images/S. Gallup)

برلن میں سینکڑوں مہاجرین کو بسایا گیا ہے

بتایا گیا ہے کہ جب پولیس اس پاکستانی مہاجر کو جنسی حملے کے الزام میں گرفتار کر کے اپنی گاڑی میں بٹھا رہی تھی، تو متاثرہ لڑکی کے عراقی باپ نے چاقو ہاتھ میں لیے اس پاکستانی مہاجر پر حملے کی کوشش کی۔ اس دوران وہ غصے سے چیخ رہا تھا، ’’تو بچ نہیں سکو گے۔‘‘ جس پر پولیس کو اس حملہ آور پر متعدد مرتبہ گولیاں چلانا پڑیں۔

زخمی ہو جانے والا یہ عراقی مہاجر بعد میں ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لا کر جان کی بازی ہار گیا۔ پولیس کے مطابق متاثرہ بچی کی کونسلنگ کی جا رہی ہے، جب کہ 27 سالہ پاکستانی مہاجر سے ان الزامات کے تناظر میں تفتیش کا عمل جاری ہے۔